پاکستان

وزیر دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں پاکستانی وفد آج دوحہ میں افغان طالبان سے مذاکرات کریگا

  • بات چیت کا محور پاکستان کے خلاف افغانستان سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات اور پاک افغان سرحد پر امن و استحکام کی بحالی ہوگا،دفترِ خارجہ
شائع October 18, 2025 اپ ڈیٹ October 18, 2025 03:36pm

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح وفد آج (ہفتہ) دوحہ میں افغان طالبان کے نمائندوں سے مذاکرات کرے گا۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک نے شدید لڑائی کے بعد جنگ بندی میں توسیع کی ہے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق مذاکرات میں افغانستان سے پاکستان کے خلاف کی جانے والی سرحد پار دہشتگردی کے خاتمے کے فوری اقدامات اور پاک افغان سرحد کے ساتھ امن و استحکام کی بحالی کے بارے میں اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

ایک زمانے میں اتحادی رہنے والے اسلام آباد اور کابل حالیہ دنوں میں سرحدی جھڑپوں میں مصروف رہے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گرد حملے افغان طالبان کے ساتھ اس کے تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔ طالبان 2021 میں امریکی قیادت والی افواج کے انخلا کے بعد کابل میں دوبارہ برسراقتدار آئے تھے۔

دونوں ممالک کے درمیان تازہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اسلام آباد نے بارہا کابل سے مطالبہ کیا کہ وہ اُن دہشت گردوں کو لگام دے جو پاکستان میں حملے تیز کرچکے ہیں اور مبینہ طور پر افغانستان میں پناہ گاہوں سے کارروائیاں کرتے ہیں، تاہم طالبان اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ وہ پاکستان پر حملہ کرنے والے عسکریت پسندوں کو پناہ دیتے ہیں۔

رواں ماہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ہونے والی جھڑپیں گزشتہ کئی دہائیوں کی بدترین لڑائی قرار دی جا رہی ہیں۔ اس نے سعودی عرب اور قطر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے، جو ثالثی کرتے ہوئے لڑائی رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ وہ اس تنازع کے حل میں مدد کر سکتے ہیں۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب پاکستان کی جانب سے بارہا سفارتی کوششوں اور افغان حکومت سے اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے مطالبات کے باوجود طالبان حکام نے عسکریت پسندوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا تاہم افغان طالبان حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری سے کئے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں اور دہشتگرد گروپوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کر کے پاکستان کے سلامتی سے متعلق جائز خدشات دُور کریں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان قطر کی مصالحتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس بات کی توقع کرتا ہے کہ ان مذاکرات سے علاقے میں امن و استحکام میں مدد ملے گی۔

علاوہ ازیں افغان حکومت کے ایک ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ شدید لڑائی میں جنگ بندی کی مدت میں توسیع کے بعد پاکستان اور افغانستان آج دوحہ میں امن کریں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ جیسا کہ وعدہ کیا گیا تھا، پاکستانی فریق کے ساتھ مذاکرات آج دوحہ میں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کی سربراہی میں اسلامی امارات کا ایک اعلیٰ سطح وفد دوحہ کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔

یہ پیش رفت اس اعلان کے ایک دن بعد سامنے آئی کہ جب ایک روز قبل وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا کہ اب پاکستان کی جانب سے افغانستان کو کسی وفد کی روانگی، سفارتی احتجاج یا درخواست نہیں کی جائے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں کابل کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا، حالانکہ پاکستان نے مخلصانہ کوششیں اور بے شمار قربانیاں دیں۔

انہوں نے 2021 میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے امن قائم کرنے اور افغانستان سے پاکستان میں دراندازی روکنے کی کوششوں کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع، آئی ایس آئی حکام، خصوصی مشیران، قومی سلامتی کے مشیر اور سیکریٹری کے متعدد وفود کابل کا دورہ کر چکے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے کابل کو متعدد سفارتی مراسلے (ڈی مارشز) جاری کیے جبکہ افغان حکام کے ساتھ سرحدی سطح پر سینکڑوں فلیگ میٹنگز کے ذریعے اسلام آباد کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2021 کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے 10 ہزار سے زائد واقعات میں 4 ہزار شہری، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار گنواچکا ہے۔

وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ افغانستان اب بھارت کا پراکسی بن چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ دہشت گردی کی جنگ پاکستان پر بھارت، افغانستان اور ٹی ٹی پی نے مل کر مسلط کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود تمام افغان باشندوں کو اب واپس جانا ہوگا، کیونکہ اب ان کی اپنی حکومت کابل میں قائم ہے اور اسے پانچ سال ہو چکے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان کو پاکستان کے ساتھ اچھے ہمسائے کی طرح رہنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی زمین اور وسائل 25 کروڑ پاکستانیوں کے ہیں اور اب پچاس سال سے جاری جبری میزبانی ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ خوددار قومیں کسی دوسرے ملک کی زمین یا وسائل پر انحصار نہیں کرتیں۔