کاروبار اور معیشت

صنعتی رہنماؤں کی وزیراعظم سے متنازع گیس لیوی فوری منجمد کرنے کی اپیل

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے 7 صنعتی ایسوسی ایشنز اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کی تنظیموں کے ساتھ مل کر زائد...
شائع October 17, 2025 اپ ڈیٹ October 17, 2025 04:22pm

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے 7 صنعتی ایسوسی ایشنز اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کی تنظیموں کے ساتھ مل کر زائد اور سابقہ گیس بلوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف و وزیر توانائی سے اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کریں۔ کاروباری رہنماؤں نے کہا کہ یہ اقدام صنعت مخالف ہے، پیداوار روک سکتی ہے، برآمدات کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور پاکستان کو درآمدات پر انحصار کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

جمعرات کو کے سی سی آئی میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے زوم کے ذریعے شرکت کی۔ دیگر شرکاء میں وائس چیئرمین بی ایم جی جاوید بلبوانی، کے سی سی آئی کے صدر ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، نائب صدر محمد عارف لاکھانی اور تمام صنعتی ٹاؤن و ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشنز کے نمائندگان شامل تھے۔

زبیر موتی والا نے کہا کہ پہلے صنعتوں کو بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کیپٹیو پاور پلانٹس لگانے کی ترغیب دی گئی تھی جس کے لیے حکومت کی جانب سے گیس کی بلا تعطل فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی، تاہم گیس کے بڑھتے ہوئے نرخ اور بھاری ٹیکس و لیویز نے کیپٹیو پاور جنریشن کو مالی طور پر ناقابل عمل بنا دیا ہے، جس سے اربوں روپے کی صنعتی سرمایہ کاری ضائع ہو رہی ہے۔

انہوں نے کیپٹیو پاور پلانٹس پر 791 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی لیوی کی شدید مذمت کی، جسے گرڈ بجلی کے ساتھ لاگت کے فرق کے بہانے متعارف کرایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حساب کتاب 24 گھنٹے کی اوسط کے بجائے صرف چوٹی کے چار گھنٹے کی شرح پر مبنی تھا اور اگر اوسط شرح لاگو کی جاتی تو فرق صرف 238 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو بنتا۔ انہوں نے یہ لیوی غیر معقول، ناقابل جواز اور صنعتوں کے لیے ناقابل برداشت قرار دی۔

بزنس رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سابقہ لیوی نافذ کی گئی تو صنعتیں شدید نقصان اٹھائیں گی اور یہ اقدامات ان لوگوں کے مفاد میں ہوں گے جو پاکستان میں صنعتوں کے قیام کے مخالف ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ لیوی کو فوری منجمد کیا جائے، حساب کتاب کے فارمولے کی وضاحت کی جائے اور صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی جائے۔

وائس چیئرمین بی ایم جی اور سابق کے سی سی آئی صدر جاوید بلوانی نے حکومت اور اوگرا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کو جان بوجھ کر غیر معقول گیس نرخوں کے ذریعے نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق صنعتیں بغیر کسی شفاف فارمولے یا وضاحت کے دسیوں ملین مالیت کے گیس کے بل وصول کر رہی ہیں، اور یہ لیوی جی ایس ٹی کے تابع ہونے کے سبب انتہائی غیر منصفانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف ایک سال کے اندر گیس کے نرخ 852 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھ کر 4,259 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئے جو 403 فیصد کے اضافہ کی نشاندہی کرتا ہے اور حکومت کو گیس کے نرخوں کو مستحکم رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

کے سی سی آئی کے صدر ریحان حنیف نے کہا کہ تاجر برادری گیس کے نرخوں میں غیر معمولی اضافے اور صنعتی صارفین پر عائد غیر منصفانہ محصولات سے سخت پریشان ہے، اور یہ من مانی فیصلے صنعتی شعبے میں خوف اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ قیمتوں کا تعین جاری رہا تو برآمد کنندگان اپنے آپریشنز بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جو پاکستان کی اقتصادی بقا کے لیے خطرہ ہے۔

اکرام راجپوت، فیصل معیز اور سلیم پاریکھ سمیت دیگر صنعتی رہنماؤں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ موجودہ لیوی اور بڑھتی ہوئی گیس کی قیمتیں صنعتوں کو تباہ کر رہی ہیں، برآمدات کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے فوری اور پائیدار حل تلاش کرنے کا مطالبہ کیا۔