سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس سی ای پی ) نے کراچی میں پاکستان میں تکافل کا مستقبل کے عنوان پر ایک گول میز مباحثے کا اہتمام کیا۔ یہ تقریب ایس ای سی پی کے انشورڈ پاکستان کے پانچ سالہ اسٹریٹجک پلان کا حصہ تھی۔ اجلاس میں شریعہ ایڈوائزرز، بین الاقوامی انشورنس بروکرزاور انشورنس صنعت کے نمائندے شریک ہوئے۔

اجلاس کا مقصد تکافل کے شعبے کی ترقی کو فروغ دینا تھا۔ یہ اقدام کمشنر مجتبیٰ احمد لودھی کی رہنمائی میں ایس ای سی پی کے انشورنس ڈویژن کی جانب سے شروع کیا گیا، اس کا مقصد تکافل صنعت کا مارکیٹ شیئر بڑھانا، شریعہ کے مطابق مالی شمولیت کو فروغ دینا اور ملکی معیشت و ریگولیٹری اصلاحات میں بہتری لانا تھا۔

اپنے خطاب میں کمشنر انشورنس جناب مجتبیٰ احمد لودھی نے شرکاء کی بھرپور شمولیت کو سراہا اور تکافل کے فروغ میں مشترکہ ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ ایس ای سی پی ایک آسان اور معاون ریگولیٹری ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر عمل درآمد کے لیے صنعت کو مکمل تعاون فراہم کرے گا۔

ایس ای سی پی کے شریعہ ایڈوائزری بورڈ کے رکن مفتی احسان وقار نے حالیہ آئینی اصلاحات کی روشنی میں شریعت کے مطابق انشورنس کی طرف منتقلی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے صنعت کے اہم چیلنجوں کا خاکہ پیش کیا اور ایس ای سی پی اور مارکیٹ کے شرکاء دونوں پر زور دیا کہ وہ اس منتقلی کے لیے واضح رہنما اصول تیار کرنے میں مل کر کام کریں، ایس ای سی پی کی ٹیم نے تکافل شعبے کے اہم چیلنجز اور اس کی اسٹریٹجک ترجیحات پر روشنی ڈالی، ساتھ ہی مالیاتی صنعت میں اسلامی مالیات کے فروغ کے لیے کی جانے والی وسیع کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025