ارجنٹائن کے سفیر سباسٹین سیوس نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ زراعت، لائیو اسٹاک اور فوڈ سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور اپنی تکنیکی مہارت کے تبادلے کے لیے تیار ہے ، تاکہ پاکستان کی پیداواری صلاحیت اور فوڈ چین کو مضبوط بنایا جا سکے۔

وہ لاہور چیمبر آف کامرس میں خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر صدر فہیم الرحمان سہگل، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی اور ارجنٹائن سفارتخانے کے نمائندے بھی موجود تھے۔

سفیر نے مزید کہا کہ ارجنٹائن اور پاکستان کے تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں اور ان کا ملک تجارت، ثقافت اور ٹیکنالوجی میں شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ دونوں ممالک جدید اناج سائلوز کے قیام کے پائلٹ منصوبے پر بات کر رہے ہیں، جو پاکستان میں ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور فصلوں کے نقصانات کم کرنے میں مدد دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بائیوٹیکنالوجی، زرعی مشینری، گوشت کی پروسیسنگ اور آئی ٹی میں تعاون دونوں ملکوں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔

لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ ارجنٹائن لاطینی امریکہ کی ایک بڑی معیشت ہے، جس کے ساتھ پاکستان کی تجارت 394 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات 51 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 343 ملین ڈالر رہیں، جن میں اضافہ ضروری ہے تاکہ دوطرفہ تجارتی توازن بہتر ہو۔

انہوں نے زور دیا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، فارماسیوٹیکل اور سیاحت کے شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تعاون کے امکانات موجود ہیں۔ فہیم سہگل نے کہا کہ کاروباری وفود کے تبادلے اور تجارتی میلوں میں شمولیت سے تعلقات مزید مضبوط کیے جا سکتے ہیں۔