وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ہفتہ کو ملک کی زرعی برآمدات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کے مضبوط عزم پر زور دیا جس میں خاص طور پر مالٹے اور دیگرسٹرس پھلوں کے شعبے میں قدر میں اضافہ، جدت اور معیار کی بہتری شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ مالٹے، خصوصاً کنو مینڈارن، پاکستان کے برآمدی پورٹ فولیو میں اہم مقام رکھتے ہیں اور عالمی منڈیوں میں اس کی مسابقتی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنا وزارتِ تجارت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف جدید زرعی طریقوں کو فروغ دے کر، بین الاقوامی معیار پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر اور لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا کر پوری ویلیو چین کو مضبوط کرنا ہے ۔

یہ بات جام کمال خان نےحال ہی میں سرگودھا میں ہونے والے ایگری ایکسپو میں پاکستان ہارٹی کلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی کی شرکت کے حوالے سے کی۔

پاکستان کنو سمیت دیگر مالٹے اور کھٹے میٹھے پھلوں کا اہم پیدا کنندہ اور برآمد کنندہ ہے اور اس کے بڑے برآمدی مارکیٹس میں افغانستان، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا شامل ہیں۔

ورکشاپ کے دوران سرگودھا کے سٹرٹس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ماہرین نے کیڑوں اور بیماریوں کے کنٹرول، فصل کی کٹائی کے طریقے اور بعد از کٹائی مینجمنٹ کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی فراہم کی تاکہ پھلوں کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے اور برآمدات میں نقصانات کم ہوں۔

ہموار اور درجہ حرارت کے تحت کنٹرول شدہ برآمدات کو یقینی بنانے کے لیے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن نے اپنی ریفر کنٹینر ٹرانسپورٹ سروسز اور آئندہ دسمبر سے شروع ہونے والے مالٹے کے سیزن کے لیے لاجسٹکس منصوبے پیش کیے۔

جام کمال خان نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششوں کو سراہا اور کہا کہ کاشتکاروں، برآمد کنندگان اور سرکاری اداروں کے درمیان شراکت داری مضبوط، مسابقتی اور پائیدار ہارٹی کلچر ایکسپورٹ بیس قائم کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ پاکستان کے پاس قدرتی صلاحیت موجود ہے اور اب ہمیں معیار، تسلسل اور عالمی مسابقت پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

پی ایچ ڈی ای سی نے اپنے عزم کو دہرایا کہ وہ وزارت کے تحت کام جاری رکھے گا تاکہ پاکستان کے مالٹے کے ویلیو چین کو مضبوط بنایا جا سکے اور ملک کی زرعی برآمدات بین الاقوامی معیار اور منڈی کی توقعات پر پورا اترتی رہیں۔