پاکستان کے اسٹیل ساز ادارے، انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ (آئی ایس ایل) اور عائشہ اسٹیل ملز لمیٹڈ نے جمعرات کو کہا کہ وہ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے کمپنی پر جرمانہ عائد کرنے کے حکم کا جائزہ لے رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مناسب قانونی کارروائی کریں گے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جاری کردہ نوٹس میں کہا گیاکہ سی سی پی کی جانب سے جاری کردہ حکم اور انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ پر جرمانے کے اطلاق کے حوالے سے کمپنی تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہے اور ضرورت کے مطابق مناسب قانونی اقدامات کرے گی۔”

سی سی پی نے بدھ کے روز فلیٹ اسٹیل کے شعبے کی دو بڑی کمپنیوں، یعنی عائشہ اسٹیل ملز لمیٹڈ اور انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ پر بھاری مالی جرمانے عائد کیے، کیونکہ دونوں کمپنیوں کو 2010 کے کمپیٹیشن ایکٹ کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کارٹلائزیشن اور قیمتیں مقرر کرنے کا مجرم پایا گیا۔

سی سی پی کی بنچ، جس میں چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو اور رکن بشریٰ ناز شامل ہیں، نے حتمی حکم جاری کیا اور عائشہ اسٹیل ملز لمیٹڈ پر 648,304,180 روپے اور انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ پر 914,236,980 روپے کا جرمانہ عائد کیا۔

بنچ نے فیصلہ دیا کہ دونوں اداروں نے سب سے سنگین قسم کی کارٹلائزیشن، یعنی قیمتیں مقرر کرنے میں ملوث تھے، جو کہ کمپیٹیشن ایکٹ کے سیکشن 4(1) کے ساتھ سیکشن 4(2)(a) کے تحت ممنوع ہے۔

سی سی پی کے تفصیلی حکم میں نوٹ کیا گیا کہ عائشہ اسٹیل ملز لمیٹڈ اور انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ نے قیمتوں کی حکمت عملی کو مربوط کیا، فلیٹ اسٹیل کی قیمتیں مقرر کیں اور تجارتی طور پر حساس معلومات کا تبادلہ کیا، جس سے مقابلہ متاثر ہوا اور صارفین کو نقصان پہنچا۔

سی سی پی کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسٹیل کارٹل نے تین سالوں میں قیمتوں میں اوسطاً 111 فیصد اضافہ کیا، جبکہ خام اسٹیل کی قیمتیں 146,000 روپے فی ٹن بڑھ گئیں۔