وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز کہا کہ حال ہی میں طے پانے والا معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔

انہوں نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں لکھا کہ مکالمے اور مذاکرات کے پورے عمل کے دوران صدر ٹرمپ کی قیادت اُن کے عالمی امن کے لیے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ قطر، مصر اور ترکیہ کی بصیرت مند اور ثابت قدم قیادت بھی تحسین کی مستحق ہے، جنہوں نے معاہدے تک پہنچنے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔

شہباز شریف کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر اتفاق ہوا، جو دو سال سے جاری خونریز جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جس نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

مصر میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں ٹرمپ کے 20 نکاتی امن فریم ورک کے ابتدائی مرحلے پر اتفاق رائے ہوا۔

اگر اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا گیا تو یہ دونوں فریقوں کو جنگ بندی کے اُس مقام کے قریب لے آئے گا، جس میں ماضی کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ یہ جنگ اب ایک علاقائی تنازعے میں بدل چکی تھی، جس میں ایران، یمن اور لبنان جیسے ممالک بھی کسی نہ کسی سطح پر شامل ہو گئے تھے، جس سے اسرائیل عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار ہوا اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے توازن میں تبدیلی آئی۔

اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطینی عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ایسی بے مثال تکالیف برداشت کیں جنہیں کبھی بھی دہرایا نہیں جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے شراکت داروں، دوستوں اور برادر ممالک کی قیادت کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے تاکہ فلسطینی عوام کے لیے امن، سلامتی اور وقار اُن کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔