جی ڈی پی شرح نمو 3.04 فیصد، معاشی حجم بڑھ کر 407 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
- زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں میں اپ ڈیٹ شدہ نمو کی شرح بالترتیب 1.51 فیصد، 5.26 فیصد اور 3 فیصد رہی
ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اندازوں کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران 3.04 فیصد کی جی ڈی پی نمو حاصل کی گئی۔
یہ شرح پچھلی میٹنگ میں نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کے تخمینہ 2.68 فیصد سے زیادہ ہے۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے اپنی 114 ویں میٹنگ میں بتایا کہ زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں میں اپ ڈیٹ شدہ نمو کی شرح بالترتیب 1.51 فیصد، 5.26 فیصد اور 3 فیصد رہی، جو پہلے کے تخمینوں 0.56 فیصد، 4.77 فیصد اور 2.91 فیصد سے زیادہ ہیں۔
زرعی شعبے میں اہم فصلوں کی پیداوار میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی اور یہ منفی 13.49 فیصد سے کم ہو کر منفی 13.12 فیصد ہوگئی۔ دیگر فصلوں نے نمایاں ترقی کی جو 4.78 فیصد سے بڑھ کر 19.55 فیصد ہوئی جس کی وجہ سبز چارہ میں 16 فیصد، سبزیوں میں 12 فیصد، پھلوں میں 10 فیصد اور تمباکو میں 25.7 فیصد اضافہ ہے۔
مویشیوں کی پیداوار میں کمی دیکھی گئی اور یہ 4.72 فیصد سے کم ہو کر 2.94 فیصد رہ گئی جبکہ جنگلات اور ماہی گیری میں نمو بالترتیب 2.66 فیصد اور 1.40 فیصد رہی۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی شعبے کی اپ ڈیٹ شدہ نمو 5.26 فیصد رہی جو پہلے کے تخمینہ 4.77 فیصد سے زیادہ ہے۔
کان کنی اور کیویئرنگ صنعت کی کارکردگی منفی 3.38 فیصد سے بہتر ہو کر منفی 2.35 فیصد رہی جس کی وجہ تیل میں 3.5 فیصد ،چونا پتھر میں 31.6 فیصد، ماربل میں 11.6فیصد اور تفتیشی اخراجات میں 26.1فیصد اضافہ ہے۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ، جس کا اندازہ کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ کے ذریعے لگایا جاتا ہے، منفی 1.53فیصد سے بہتر ہو کر منفی 0.69 فیصد رہی۔
مالی سال 2025 میں خدماتی شعبے کی نمو 2.91 فیصد سے بڑھ کر 3 فیصد ہو گئی، جس میں تمام اجزاء نے مثبت کردار ادا کیا۔
ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ 0.14 فیصد سے بڑھ کر 0.46 فیصد ہو گئی، جس کی وجہ زرعی شعبے، مینوفیکچرنگ اور درآمدات میں بہتری ہے۔ ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج کی صنعت 2.20 فیصد سے بڑھ کر 2.43 فیصد رہی۔
انفارمیشن و کمیونیکیشن میں معمولی کمی دیکھی گئی اور یہ 6.48 فیصد سے کم ہو کر 5.85 فیصد رہی، جبکہ مالیات اور انشورنس میں بہتری آئی اور یہ 3.22 فیصد سے بڑھ کر 3.90 فیصد ہو گئی۔
معاشی حجم اور فی کس آمدن
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کے مطابق مالی سال 2025 کے قومی اکاؤنٹس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک کی مجموعی معیشت کا حجم 113.7 ٹریلین روپے یعنی 407.2 ارب ڈالر ہے، جو پچھلے سال کے 105.2 ٹریلین روپے یعنی 371.8 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
مزید برآں این اے سی کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں فی کس آمدنی 506,188 روپے یعنی 1,812 ڈالر ہے۔
سہ ماہی اعدادوشمار
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) نے مالی سال 2024-25 کے دوران پہلی، دوسری اور تیسری سہ ماہی کے لیے جی ڈی پی کی شرحِ نمو میں نظر ثانی شدہ اور چوتھی سہ ماہی کے لیے نئی شرحِ نمو کی منظوری دی۔ پہلی تین سہ ماہیوں میں جی ڈی پی میں بالائی نظر ثانی کی گئی: پہلی سہ ماہی کے لیے 1.37 فیصدسے بڑھا کر 1.80فیصد، دوسری سہ ماہی کے لیے 1.53فیصد سے بڑھا کر 1.94فیصد اور تیسری سہ ماہی کے لیے 2.40 فیصد سے بڑھا کر 2.79 فیصد کردی گئی۔
کمیٹی کے مطابق یہ تبدیلیاں بنیادی طور پر زرعی شعبے میں سالانہ بینچ مارک میں کی گئی اصلاحات کی وجہ سے ہیں جس کے نتیجے میں شرح نمو میں بہتری آئی ہے۔
مالی سال 2025 کی چوتھی سہ ماہی کے دوران معیشت نے 5.66 فیصد نمو دکھائی۔ زرعی، صنعتی اور خدماتی شعبوں کی نمو بالترتیب 0.18 فیصد، 19.95 فیصد اور 3.72 فیصد رہی۔