Startup Recorder

زاریا اسٹارٹ اپ جو صرف 500 روپے سے سونا خریدنے کو آسان بنانا چاہتا ہے

  • اسٹارٹ اپ بانی کا کہنا ہے کہ سونا اب تک مؤثر ڈیجیٹلائزیشن سے محروم رہا ہے۔
شائع October 7, 2025 اپ ڈیٹ October 7, 2025 11:21am

کاروباری شخصیت عادل سلیم کا ایک مشن ہے — پاکستانیوں کو سونے میں سرمایہ کاری کے قابل بنانا۔ اسی مقصد کے تحت وہ ایک نیا اسٹارٹ اَپ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جس کا نام زاریا (Zariah) ہے، جسے وہ پاکستان کا پہلا’ڈیجیٹل گولڈ سیونگز پلیٹ فارم قرار دیتے ہیں۔

یہ پلیٹ فارم پاکستانیوں کو 24 قیراط خالص سونا میں سرمایہ کاری کی اجازت دے گا، جس کی شروعات صرف 500 روپے سے کی جا سکے گی۔ پلیٹ فارم پر مارکیٹ کی قیمتوں کی رئیل ٹائم ٹریکینگ کی جا سکے گی، صارفین کو کسی بھی وقت سونا کیش یا ری ڈیم کرنے کی سہولت ہوگی، اور آٹومیٹڈ سیونگز (خودکار بچت) کا فیچر بھی موجود ہوگا — یعنی خریداری کے وقت رقم کو قریب ترین روپے تک رائونڈ فیگر میں کرکے رقم صارف کے لیے محفوظ یا سرمایہ کاری کر دی جائے گی۔

کمپنی کے مطابق، تمام سونا بینک کے معیار کے محفوظ والٹس میں رکھا جائے گا، سو فیصد بیکڈ اور مکمل طور پر آڈٹ ایبل ہوگا۔

بزنس ریکارڈر سے ایک خصوصی گفتگو میں عادل سلیم — جو اس سے قبل نیو یارک میں لمیڈا ویلتھ اور سنگاپور کے ایکویٹی ہیج فنڈ فاؤنٹین ہیڈ پارٹنرشپس میں کام کر چکے ہیں — نے بتایا کہ زاریا اس وقت پری لانچ مرحلے میں ہے، اور وہ اسے جلد متعارف کرانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

کمپنی اس وقت ان اسٹریٹیجک پارٹنرز اور سرمایہ کاروں سے بات چیت کر رہی ہے جو اس کے وژن سے اتفاق رکھتے ہیں، تاہم فی الحال فنڈ ریزنگ کی تفصیلات عوامی طور پر شیئر نہیں کی جا رہیں۔

سونا میں بچت اب بھی منتشر، غیر رسمی اور غیر محفوظ ہے

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں کون سا خلا انہیں ڈیجیٹل گولڈ سیونگز پلیٹ فارم لانچ کرنے پر قائل کر گیا، تو انہوں نے کہا کہہر پاکستانی گھرانہ بچت کی اہمیت کو سمجھتا ہے، مگر دہائیوں سے ہمارا مالیاتی نظام عام لوگوں کے لیے محفوظ، آسان اور منافع بخش بچت کے مواقع فراہم نہیں کر سکا۔

ان کے مطابق، پاکستان کی گھریلو بچت کی شرح خطے میں سب سے کم ہے — جی ڈی پی کا صرف 7 فیصد — جبکہ پاکستان کی آبادی کا 1 فیصد سے بھی کم حصہ ریگولیٹڈ کیپیٹل مارکیٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کرتا ہے۔

رسائی کے قابل باضابطہ مواقع نہ ہونے کی وجہ سے، گھریلو سطح پر لوگ سونا کی طرف مائل ہوئے — جو سب سے زیادہ معروف اور ثقافتی طور پر قابلِ اعتماد بچت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق، پاکستان میں سالانہ سونا کی مانگ 40 ٹن (تقریباً 1.4 کھرب روپے یا 5 ارب ڈالر) سے تجاوز کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہتاہم مسئلہ یہ ہے کہ سونے میں بچت اب بھی منتشر، غیر رسمی اور غیر محفوظ ہے۔ زیادہ تر گھرانے سونا گھروں میں رکھتے ہیں یا نان ریگولیٹڈ ڈیلرز پر انحصار کرتے ہیں، جس سے چوری، فراڈ اور نااہلی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

اس کے برعکس، ہم نے دیگر اثاثہ جات میں حقیقی جدت دیکھی ہے:ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (ریٹس) اور فریکشنل اونرشپ نے ریئل اسٹیٹ کے منظرنامے کو بدل دیا ہے، فنکالَیب جیسے پلیٹ فارمز اسٹاک سرمایہ کاری کو جدید بنا رہے ہیں، جبکہ نیا پے اور سادہ پے جیسے فِن ٹیک والٹس نے لاکھوں لوگوں کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ممکن بنایا ہے۔

لیکن سونا وہ واحد شعبہ ہے جو ابھی تک کسی بامعنی ڈیجیٹل جدت سے محروم ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سونا پہلے ہی گھریلو بچت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، یہ خلا خاصا نمایاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا وژن یہ ہے کہ سونا کو زیادہ محفوظ اور قابلِ رسائی بنایا جائے، اور پاکستان کو ایسے جدید بچت کے آلات فراہم کیے جائیں جو اسے عالمی مالیاتی جدت کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔

اعتماد کی اہمیت

پاکستان میں مالیاتی اسکینڈلز اور غیر رسمی بچت چینلز عام ہیں، لہٰذا اعتماد قائم کرنا اس منصوبے کی کامیابی کے لیے بنیادی شرط ہے۔

عادل سلیم اس سے متفق ہیں کہاعتماد زاریا کی بنیاد ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ پاکستانی عوام ماضی میں دھوکہ کھا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شروع دن سے ہم نے زاریا کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ وہ باضابطہ مالیاتی نظام کے اندر کام کرے، تاکہ صارفین کی بچت ہمیشہ محفوظ، حقیقی سونا سے بیکڈ اور محفوظ اداروں کے ساتھ شراکت داری میں ہو۔ اس میں شفاف قیمتیں، والٹ کی روزانہ ری کنسیلی ایشن، اور صرف قابلِ اعتبار اداروں کے ساتھ تعاون شامل ہے۔

ان تمام حفاظتی اقدامات کو ایک آسان ڈیجیٹل تجربے کے ساتھ ملا کر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانیوں کو سونا میں بچت کے حوالے سے وہ اعتماد حاصل ہو جو وہ عرصے سے کھو چکے ہیں — یعنی ہر جمع شدہ روپیہ محفوظ، شفاف اور مکمل طور پر دستاویزی ہو۔”

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا زاریا مستقبل میں سونا سے آگے بھی بڑھے گا، تو انہوں نے کہا کہ یہ اسٹارٹ اَپاپنے جوہر میں پاکستان کے لیے ڈیجیٹل سیونگز کا وژن ہے۔سونا ہمارا قدرتی نقطۂ آغاز ہے، کیونکہ یہ قابلِ اعتماد، مانوس، اور پہلے ہی سب سے زیادہ استعمال ہونے والا بچت کا ذریعہ ہے۔ ہمارا فوری ہدف سونا کے شعبے میں گہرائی اور وسعت پیدا کرنا ہے، اس کے بعد ہم مزید توسیع کریں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چاندی بھی کمپنی کے روڈ میپ میں شامل ہے، اگرچہ ان کے خیال میں اس کی مارکیٹ نسبتاً چھوٹی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ، ہم دیگر شریعت کے مطابق بچت اور سرمایہ کاری کے آپشنز متعارف کرانے کے مواقع دیکھ رہے ہیں۔

رسائی کی اہمیت

زاریا کے ذریعے پاکستانیوں کو صرف 500 روپے سے سرمایہ کاری شروع کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عادل سلیم نے کہا کہ رسائی کمپنی کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ روایتی طور پر سونا بچت کے لیے بڑی اکائیوں جیسے گرام، تولہ یا اس سے زیادہ میں خریدا جاتا ہے، جو بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتا ہے۔ ہم نے یہ رکاوٹ ختم کر دی ہے، اب صرف 500 روپے سے بچت شروع کی جا سکتی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اب کوئی بھی — چاہے وہ طالب علم ہو یا ملازمت پیشہ فرد — بڑی رقم جمع کیے بغیر اپنی بچت کا سفر شروع کر سکتا ہے۔ یہ ایک سادہ اور جامع طریقہ ہے جو پاکستان کے سب سے بھروسہ مند اثاثے یعنی سونا کو ہر شخص کے لیے قابلِ رسائی بناتا ہے۔

سونے میں سرمایہ کاری کا کوئی صحیح وقت نہیں ہوتا؟

6 اکتوبر تک، مضمون لکھنے کے وقت، پاکستان میں سونے کی قیمتیں نئی بلندیوں پر پہنچ چکی تھیں، جو بین الاقوامی منڈی میں اضافے کے مطابق ہیں۔مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 415,278 روپے تک جا پہنچا، جو ایک دن میں 5,400 روپے کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

سونے میں سرمایہ کاری کے صحیح وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے،عادل سلیم کا کہنا تھا کہ سونے کو اکثر ایک وقتی تجارت سمجھا جاتا ہے، حالانکہ درحقیقت یہ ایک طویل مدتی بچت کا اثاثہ ہے جو مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، اور عالمی غیر یقینی حالات کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حتیٰ کہ ریکارڈ سطح پر بھی، سونا رکھنے کی منطق پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ دنیا بھر کے مرکزی بینک ہر سال تقریباً 1,000 ٹن سونا خرید رہے ہیں، جس سے سونے کا زرمبادلہ کے ذخائر میں حصہ گزشتہ 30 سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔چین کے گھریلو صارفین اپنے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے سست ہونے کے باعث سونا خریدنے کی طرف جا رہے ہیں، جبکہ بھارت میں سونے کی ثقافتی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسی کی غیر یقینی صورتحال، کمزور ڈالر، اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے پس منظر میں، سونا کاغذی کرنسیوں پر اعتماد کی کمی کا مظہر بنتا جا رہا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانیوں کے لیے نتیجہ واضح ہے — مہنگائی روپے کی بچتوں کو کھا رہی ہے، لہٰذا سونا اب بھی دولت کے تحفظ کا چند قابلِ بھروسہ طریقوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ 1995 سے اب تک، سونے نے روپے کی بنیاد پر سالانہ اوسطاً 15.7 فیصد منافع (سی اے جی آر) دیا ہے، جو کے ایس ای-100 انڈیکس کے 15.2 فیصد سے معمولی زیادہ ہے، لیکن سونے میں اتار چڑھاؤ کم اور خطرے کے لحاظ سے منافع زیادہ رہا ہے۔

“اسی لیے دانشمندانہ طریقہ یہ ہے کہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیچھے نہ بھاگا جائے بلکہ سونے میں نظم و ضبط کے ساتھ بچت کی عادت ڈالی جائے۔ جتنا جلد آغاز کیا جائے، اتنا ہی زیادہ تحفظ حاصل ہوگا۔”

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سونے کی قیمت کی کوئی پیشگوئی کرتے ہیں، تو عاد؛ سلیم نے کہا کہہم قیمتوں کی پیشگوئی نہیں کرتے، کیونکہ سونا قیاس آرائی کے لیے نہیں، بلکہ طویل مدتی بچت کے لیے ہے۔

تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق 2025 تک سونا 4,000 ڈالر فی اونس تک جا سکتا ہے،جو اگر روپیہ مستحکم رہے تو تقریباً430,000 روپے فی تولہ کے برابر ہوگا، اور اگر روپیہ کمزور ہو تو اس سے بھی زیادہ اوپر جائیگا۔

عدال سلیم کے مطابق پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کا مقصد قیمت کے پیچھے دوڑنا نہیں ہونا چاہیے۔اصل سبق یہ ہے کہ سونا اب ریزرو اثاثے اور گھریلو تحفظ کے آلے کے طور پر دوبارہ متعین ہو رہا ہے۔ دانشمندانہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ وقت کے ساتھ باقاعدگی سے بچت کی جائے، نہ کہ عروج و زوال کو وقت کرنے کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ سب سے پہلے سمجھنا ضروری ہے کہ سونے کی اصل قدر اس کی حیثیت ایک طویل مدتی دولت کے ذخیرے کے طور پر ہے۔یہ مہنگائی، روپے کی کمی، اور عالمی غیر یقینی صورتحال سے بچتوں کو محفوظ رکھتا ہے — یہی وجہ ہے کہ یہ نسلوں سے قابلِ اعتماد اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔

عادل سلیم نے کہا کہ میرا مشورہ ہے: جلد آغاز کریں، چھوٹا آغاز کریں، اور تسلسل رکھیں۔چھوٹے چھوٹے حصے وقت کے ساتھ بڑھ جاتے ہیں، اور تولے کے بجائے گرام میں سوچنا سونا ہر کسی کے لیے قابلِ حصول بنا دیتا ہے۔

اگرچہ زاریا ابھی لانچ نہیں ہوا، لیکن عادل سلیم کے مطابق پری لانچ مرحلے پر ہی ردِعمل بہت حوصلہ افزا ہے۔سروے اور ویٹ لسٹ کے ذریعے انہوں نے دیکھا ہے کہ خاص طور پر نوجوان پیشہ ور اور ملی نیلز) طبقہ زبردست دلچسپی دکھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک نمایاں رجحان یہ ہے کہ پاکستانی اب چھوٹی، قابلِ انتظام رقم میں بچت کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ ایک بڑی رقم ایک ساتھ لگائیں۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ لوگ ایسی ڈیجیٹل حلوں کے خواہاں ہیں جو بچت کو آسان، محفوظ اور سب کے لیے قابلِ رسائی بناتے ہیں۔