کاروبار اور معیشت

اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 100 انڈیکس 1200 سے زائد پوائنٹس گرگیا

  • تجزیہ کاروں کے مطابق بڑھتا تجارتی خسارہ اور مہنگائی کے اعداد و شمار سرمایہ کاروں میں تشویش کا باعث
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو شدید پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1200 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے ایک لاکھ 68 ہزار کی سطح گنوابیٹھا۔

ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 165,997 تک گرگیا تھا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,237.67 پوائنٹس یا 0.73 فیصد کی کمی سے 167,752.40 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے، عارف حبیب لمیٹڈ کی ثنا توفیق نے پرافٹ ٹیکنگ کو مندی کی وجہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ زیادہ فروخت کے دباو کی وجہ سے ہے، اس کے علاوہ تجارتی خسارہ اور متوقع مہنگائی کی شرح میں اضافہ بھی مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں نتائج سیزن کا آغاز ہوتا ہے جس سے مارکیٹ کو سہارا ملنے کی توقع ہے۔

ثنا توفیق نے کہا کہ اس کے علاوہ، اگر جاری آئی ایم ایف جائزہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں ہونے والی رقم کی ادائیگی غیر ملکی زر مبادلہ ذخائر کو مزید مستحکم کرے گی، جو مارکیٹ کو ایک اور سطح کا سہارا فراہم کرے گی۔

یہ عوامل مجموعی طور پر مثبت مارکیٹ کے منظر نامے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

دریں اثناء بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں بتایا ہے کہ مارکیٹ نے کاروباری سیشن کا اختتام منفی رجحان کے ساتھ کیا، جس پر بھارت سے متعلق بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل خدشات، سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور منافع کے حصول کی سرگرمیوں نے دباؤ ڈالا۔

رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں مجموعی طور پر 625 پوائنٹس کی کمی کا بڑا سبب اینگرو، میزان بینک لمیٹڈ ، حبکو، بینک الفلاح اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے حصص میں ہونے والا نقصان رہا۔ تاہم، ایف ایف سی، اے آئی سی ایل اور حبیب بینک لمیٹڈ کی جانب سے جزوی طور پر 279 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

ایک اہم پیشرفت میں بلومبرگ کے مطابق پاکستان نے خود مختار (سووَرِن) ڈیفالٹ کے خطرے میں سب سے تیزی سے کمی ریکارڈ کی ہے اور اب وہ عالمی سطح پر ترکیہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے مضبوط تیزی کا سلسلہ برقرار رکھا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح 168,990.06 پوائنٹس پر بند ہوا جو ہفتہ وار بنیاد پر 4.1 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ جے ایس گلوبل کیپٹل کے مطابق یہ 2009 کے بعد سے 9 ماہ کی بہترین کارکردگی ہے جس کی بنیاد مسلسل سرمایہ کاروں کے اعتماد، مختلف شعبوں کی مضبوط کارکردگی اور بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں پر ہے۔

عالمی منڈیوں میں جاپانی حصص میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور وہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، جبکہ ین کی قدر میں پیر کے روز کمی دیکھی گئی۔ یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب مالیاتی اور مانیٹری پالیسی میں نرم مؤقف رکھنے والی سناے تاکائچی کو حکمران جماعت کا قائد منتخب کیا گیا، جس کے بعد وہ جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم بننے کی راہ پر گامزن ہیں۔

جاپان کے نکئی انڈیکس میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جو ہفتہ کے روز لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے قائدانہ انتخاب میں سناے تاکائچی کی معتدل رہنما شنجیرو کوئزومی پر فتح کے بعد پیر کے کاروبار کے ابتدائی 15 منٹوں میں 4.3 فیصد بڑھ کر غیر معمولی سطح 47,734.04 تک جا پہنچا۔

علاقے کی بیشتر بڑی اسٹاک مارکیٹیں، جن میں مین لینڈ چین، جنوبی کوریا اور تائیوان شامل ہیں، تعطیلات کے باعث بند رہیں۔

ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس منگل کی چھٹی سے قبل 0.3 فیصد گر گیا، جبکہ آسٹریلیا کا بینچ مارک انڈیکس 0.1 فیصد کم ہوا تاہم نیو ساؤتھ ویلز اور کوئنزلینڈ سمیت کئی ریاستوں میں تعطیلات کے باعث کاروباری حجم محدود رہا۔

امریکا کے ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.2 فیصد اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔

دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کے روزامریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ ایک پیسے کے اضافے کے ساتھ 281.25 روپے پر بند ہوا۔

آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم کم ہو کر 1.274 ارب شیئرز رہ گیا، جو گزشتہ کاروباری سیشن میں 1.573 ارب تھا۔ اسی طرح، حصص کی مالیت بھی کم ہو کر 60.54 ارب روپے رہ گئی، جو گزشتہ سیشن میں 78.67 ارب روپے تھی۔

بینک آف پنجاب 131.31 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرِفہرست رہا، اس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 110.02 ملین شیئرز اور بینک مکرمہ کے 78.28 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔

پیر کے روز مجموعی طور پر 487 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 108 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 348 کے شیئرز کی قیمت میں کمی، جبکہ 31 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔