سیکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز پاک۔افغان سرحد کے قریب دو الگ الگ کارروائیوں میں دو اہم دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا شدید مطلوب کمانڈر بھی شامل ہے، جس کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔
پہلی کارروائی میں بدنامِ زمانہ ٹی ٹی پی کمانڈر طور دل عرف گوہر اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔ طور دل کا تعلق باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند سے تھا اور وہ مقامی شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ سمیت متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسے افغانستان کے علاقے وارہ خرکی میں دفن کیا گیا۔
دوسری کارروائی میں پاکستانی فورسز نے افغان صوبے کنڑ کے ضلع باریکوٹ میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے جماعت الاحرار کے دہشتگرد خان زرین کو ہلاک کر دیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے دہشتگرد گروہ اسی علاقے سے مسلسل پاکستانی حدود پر فائرنگ کر رہے تھے۔ پاکستانی ردِعمل کو سرجیکل، درست اور مؤثر کارروائی قرار دیا گیا جس سے خطرہ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔
حکام نے شہری ہلاکتوں سے متعلق پروپیگنڈا کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خود دہشتگرد تنظیم نے اپنے رکن کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پر غیر ملکی سرزمین سے حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ملک کے خلاف کارروائی کرنے والوں کو ہر حال میں انجام تک پہنچایا جائے گا۔