ہفتے کے روز غزہ شہر پر دھوئیں کے بادل چھا گئے، مگر مہینوں بعد پہلی بار مقامی باشندوں کو اس وقت محسوس ہوا کہ جنگ بندی قریب ہے جب انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو بمباری روکنے کی اپیل کا خیرمقدم کیا۔

غزہ شہر کے محلے زیتون سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ جمیلہ السید نے کہا کہ ”ٹرمپ کا اعلان میرے لیے بہت حیران کن تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ اسرائیل کے حق میں جھکاؤ رکھتے ہیں۔“

اگرچہ ٹرمپ کی اپیل کے باوجود ”طیاروں نے بمباری نہیں روکی،“ لیکن جمیلہ نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ اس نے شہر، جو غزہ کا سب سے بڑا شہری مرکز ہے، چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

جمیلہ نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جنگ بندی نافذ ہو اور اسرائیلی قیدی رہا کیے جائیں، کیونکہ یہی قبضے کو جاری رکھنے کا اسرائیل کا بہانہ بنے ہوئے ہیں،“، ان کا اشارہ ان 47 یرغمالیوں کی طرف تھا جو اب بھی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے 25 کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

حماس نے جمعے کی شب اعلان کیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے تحت یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیار ہے، جس کے بعد امریکی صدر نے اسرائیل پر فوری طور پر حملے روکنے پر زور دیا۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ ”میرا یقین ہے کہ وہ دیرپا امن کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیل کو فوراً غزہ پر بمباری روکنی چاہیے تاکہ ہم یرغمالیوں کو بحفاظت اور جلدی نکال سکیں!“

تاہم اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ شمالی غزہ اب بھی ایک ”خطرناک جنگی علاقہ“ ہے اور شہریوں کو واپس نہ آنے کی ہدایت دی ہے۔

تاہم غزہ شہر سے تعلق رکھنے والے سمی عدس کے لیے یہ ایک ”خوشی کا دن، ایک عظیم دن“ تھا۔

50 سالہ سمی جو اپنی فیملی کے ہمراہ غزہ شہر کے مغربی حصے میں ایک خیمے میں رہائش پذیر ہیں، وہ علاقہ جو حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے، نے کہا کہ کسی بھی جنگ بندی سے ان کی زندگی میں بہتری آ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”سب سے اچھی بات یہ ہے کہ خود صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، اور اس بار نیتن یاہو بچ نہیں پائے گا،“ ان کا اشارہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی طرف تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ”امریکی صدر واحد شخصیت ہیں جو اسرائیل کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ جنگ روکے اور جنگ بندی کی پاسداری کرے۔“

تشویش برقرار

ادھر جنوبی غزہ میں، 49 سالہ محمود ابو شمالہ، جو الماواسی کے نام نہاد ”انسانی ہمدردی کے علاقے“ میں نقل مکانی کی حالت میں رہ رہے ہیں، نے کہا کہ ”یہ جنگ بندی ایک خواب ہے جسے میں دو سال سے پورا ہوتا دیکھنا چاہتا تھا۔“

تاہم انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ”جیسے ہی حماس یرغمالیوں کو رہا کرے گی، اسرائیل جنگ بندی کی پابندی نہیں کرے گا۔“

اگرچہ صدر ٹرمپ نے پیر کے روز جنگ بندی کی تجویز پیش کی، تاہم چند اہم اختلافات اب بھی باقی ہیں۔

ٹرمپ کے ساتھ بات چیت میں، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے تقریباً مکمل طور پر اس خیال کو مسترد کر دیا کہ غزہ کا انتظام رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کیا جائے۔

دوسری جانب حماس نے نہ تو اپنے ہتھیار ڈالنے اور نہ ہی اپنے ارکان کی جلاوطنی سے متعلق کوئی موقف اختیار کیا اور کہا کہ تفصیلات طے کرنے کے لیے مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔

اس کے باوجود، مہینوں کے تعطل اور قطر جیسے ثالث ملک میں بھی حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی کوششوں کے بعد، فلسطینیوں میں پہلی بار امید کی لہر پیدا ہوئی۔

جبالیہ مہاجر کیمپ سے تعلق رکھنے والے ایک بے گھر فلسطینی ابو حسین لباد نے کہا کہ ”بس بہت ہو چکا… صورتحال بہت خراب ہے۔ میں زخمی ہوں، اور آج تک چلنے کے قابل نہیں۔ حالات ناقابلِ برداشت ہیں۔ خدا کرے کہ جنگ ختم ہو جائے اور ہم اپنے تباہ شدہ گھروں کو لوٹ سکیں۔“

مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں بھی فلسطینیوں نے حماس کے رویے کو امریکی دباؤ کے تحت ایک ”دانشمندانہ حکمت عملی“ قرار دیا، جس میں اتوار تک جواب دینے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا۔

ایاد صافی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ”کل حماس کا موقف بہت اچھا تھا۔ ان شاء اللہ یہ عوام کے حق میں ہوگا، سب سے اہم بات عوام کا مفاد ہے، کہ جنگ رُکے اور سب کچھ ختم ہو۔“

عدنان نعیم نے کہا کہ ”حماس نے فوری اور اہم معاملات کو اپنے جواب میں شامل کیا۔ باقی معاملات بعد میں زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔“