✕

جرمنی کے شہر میونخ کے ایئرپورٹ پر ڈرونز کی موجودگی کے باعث جمعرات کی رات پروازیں معطل رہیں تاہم جمعہ کی صبح دوبارہ بحال کر دی گئیں۔ یہ یورپ میں فضائی آپریشن میں رکاوٹ ڈالنے والے ڈرون واقعات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔

ایئرپورٹ حکام کے مطابق ڈرونز کی متعدد اطلاعات کے بعد دونوں رن ویز تقریباً ایک گھنٹے کے لیے بند رہیں، جس کے نتیجے میں 30 سے زائد پروازیں منسوخ یا دیگر مقامات پر منتقل ہو گئیں اور تقریباً 3,000 مسافر پھنس گئے۔ تاہم صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب پروازیں بحال ہو گئیں۔ لفتھانزا کے مطابق 19 پروازیں متاثر ہوئیں۔ متاثرہ مسافروں کے لیے ایئرپورٹ پر کمبل، کھانے پینے کی اشیا اور عارضی بستروں کا انتظام کیا گیا۔

جرمن پولیس نے بتایا کہ جمعرات کی رات مقامی وقت کے مطابق 9 بجکر 30 منٹ پر اور پھر ایک گھنٹے بعد ڈرونز دیکھے گئے، جس کے بعد پولیس ہیلی کاپٹرز تعینات کیے گئے لیکن ڈرونز کی نوعیت یا تعداد کے بارے میں معلومات نہیں مل سکیں۔ حکام نے ڈرونز کے ماخذ کی تلاش شروع کر دی ہے۔

واقعہ ایسے وقت میں ہوا جب جرمنی یوم اتحاد اور اوکٹوبر فیسٹ کے آخری ہفتے کی تیاری کر رہا ہے۔

یورپ میں ڈرونز کی بڑھتی سرگرمیوں نے روس-یوکرین جنگ کے پھیلنے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی نے خبردار کیا کہ یہ روسی جارحیت کو بڑھانے کی کوشش ہے۔ یورپی رہنماؤں نے کوپن ہیگن میں ڈرون وال قائم کرنے پر بات چیت کی ہے، جبکہ امریکہ نے ڈنمارک کو اینٹی ڈرون دفاعی نظام دینے کا اعلان کیا ہے۔ نیٹو نے بھی بالٹک خطے میں نگرانی سخت کرنے کی تصدیق کی ہے۔