ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز خبردار کیا کہ اگر مغربی طاقتوں نے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کیں تو تہران عالمی ایٹمی نگران ادارے کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنوں کی اجازت دینے کے معاہدے کو منسوخ کر دے گا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر پابندیاں ہفتے کی رات 0000 جی ایم ٹی پر دوبارہ نافذ ہونے کا امکان ہے، جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے تہران پر 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ یہ معاہدہ بڑے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پایا تھا تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اےے) ایران کے ساتھ تعاون بحال کرنے اور معائنوں کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہی تھی، خاص طور پر اس کے بعد جب جون میں اسرائیل اور امریکا نے ایران کی کچھ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

تاہم عباس عراقچی نے ٹیلیگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ رواں ماہ مصر میں طے پانے والا معاہدہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک ایران کے خلاف کوئی معاندانہ اقدام نہیں کیا جاتا، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی وہ قراردادیں بھی شامل ہیں جنہیں ختم کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ورنہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی عملی ذمہ داریوں کو ختم سمجھنے کا حق رکھتا ہے۔

ادھر سلامتی کونسل جمعہ کو روس اور چین کی پیش کردہ اس قرارداد پر ووٹ ڈالے گی، جس میں ایران پر پابندیاں چھ ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم سفارتکاروں کے مطابق اس کے منظور ہونے کے امکانات کم ہیں۔

ایران طویل عرصے سے اسنیپ بیک میکنزم کو ایک سیاسی ہتھیار قرار دیتا آ رہا ہے جو سفارت کاری کو کمزور کرتا ہے۔