حلال معیشت کے بے پناہ مواقع، عالمی مارکیٹ سے ہم آہنگی ضروری قرار
پالیسی سازوں اور صنعت کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ کھربوں ڈالر کی تیزی سے فروغ پاتی عالمی حلال معیشت سے خود کو مؤثر انداز میں ہم آہنگ کرے، کیونکہ اس شعبے میں اس کے پاس بے پناہ صلاحیت اور ترقی کے مواقع موجود ہیں۔
یہ بات انہوں نے بدھ کو مقامی ہوٹل میں البرکہ بینک (پاکستان) لمیٹڈ اور اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ (آئی سی سی ڈی) کے تحت حلال کے ذریعے پاکستانی معیشت کا فروغ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر حلال انڈسٹری غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔یہ صنعت صرف مسلم آبادی تک محدود نہیں رہی، بلکہ غیر مسلم ممالک میں بھی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جو ہمارے جیسے ممالک کے لیے ایک نادر موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025 میں دنیا بھر کے مسلمان خوراک، فیشن، سیاحت، دواسازی اور کاسمیٹکس سمیت حلال تجارت پر تقریباً 2.4 ٹریلین امریکی ڈالر خرچ کریں گے، جب کہ یہ حجم 2028 تک 3.5 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔
ڈپٹی گورنر کا مزید کہنا تھا کہ میں پُرامید ہوں کہ پاکستان خوراک، فیشن، مشروبات، کاسمیٹکس، فارماسیوٹیکل اور سیاحت سمیت تمام اہم حلال شعبوں میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا حلال کا مطلب صرف شرعی اصولوں کی پابندی نہیں بلکہ یہ معیار قیمت کے عوض بہتر قدر اور صارفین کے اعتماد کی بھی ضمانت ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حلال مصنوعات کو روحانی اطمینان کے ساتھ ساتھ عملی افادیت بھی فراہم کرنی چاہیے۔سلیم اللہ نے کہا کہ اگرچہ شریعت سے مطابقت ناگزیر ہے، لیکن صرف یہی کافی نہیں۔ اسلامی مالیات کی اصل روح انصاف، مساوات اور شفافیت میں پوشیدہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ محض کم از کم شرائط پوری کرنا اسلامی مالیاتی نظام کی حقیقی روح کی ترجمانی نہیں کرتا، کیونکہ اسلامی اور روایتی مالیاتی نظام کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے کہ پہلا نظام منصفانہ اور عادلانہ اصولوں پر استوار ہوتا ہے۔
اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ (آئی سی سی ڈی) کے سیکرٹری جنرل یوسف خالاوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حلال صنعت کا دائرہ کار نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دنیا میں حلال مصنوعات کے سب سے بڑے برآمد کنندہ ملک برازیل کے نائب صدر نے انہیں خصوصی دعوت دی تھی، جو اس صنعت میں مزید وسعت کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے بتایا برازیل صرف گوشت کی مد میں ہر سال عرب ممالک کو 24 ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہےجب کہ اس میں دواسازی، کاسمیٹکس اور دیگر شعبے شامل نہیں۔
یوسف خالاوی نے مزید بتایا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ برازیل جیسے بڑے برآمد کنندہ ملک کے اعلیٰ حکام اب بھی اپنی حلال انڈسٹری کو مزید بہتر بنانے میں تعاون کے خواہاں ہیں۔ اگر دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر مزید امکانات دیکھ رہا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ کتنا بڑا موقع ہے۔
انہوں نے حلال سیاحت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بعض غیر مسلم ممالک، جو پہلے ہی عالمی سیاحت کے مقبول ترین مقامات میں شمار ہوتے ہیں، اب مسلم سیاحوں کو مزید متوجہ کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایک سرکاری اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکومت نہ صرف ہوٹلوں میں اسلامی اصولوں کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے بلکہ اس مقصد کے لیے صلاحیت سازی (کیپیسیٹی بلڈنگ) پروگرامز میں بھی مدد فراہم کر رہی ہے، کیونکہ حلال سیاحت سے ان ممالک کو سالانہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔
انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ پاکستان میں تو خوراک اور مشروبات فطری طور پر حلال ہیں، لیکن غیر مسلم ممالک میں حلال مصنوعات کے لیے علیحدہ پیداوار لائنز قائم کرنا پڑتی ہیں، جس سے غلطی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
البرکہ بینک کے سی ای او محمد عاطف حنیف نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک میں حلال پیداوار پہلے سے موجود ہے، مگر اسے مؤثر حکمت عملی سے عالمی مارکیٹ میں لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلال معیشت کے چار بڑے شعبے حلال پروٹین، فارماسیوٹیکل و کاسمیٹکس، حلال سیاحت اور حلال فیشن پاکستان کے لیے زبردست مواقع فراہم کرتے ہیں۔
ان کے مطابق حلال پروٹین کی عالمی کھپت 1 ٹریلین ڈالر سالانہ ہے، جس میں پاکستان کا حصہ صرف 0.5 بلین ڈالر ہے۔ حلال فارماسیوٹیکل اور کاسمیٹکس کی عالمی تجارت 250 بلین ڈالر ہے جبکہ پاکستان کی شراکت صفر ہے۔ حلال سیاحت کے شعبے میں بھی پاکستان میں کوئی سرٹیفائیڈ ہوٹل موجود نہیں، حالانکہ کئی غیر مسلم ممالک میں یہ سہولت موجود ہے۔
انہوں نے حلال فیشن کو کم لٹکنے والا پھل قرار دیا اور کہا کہ اگر پاکستان اس کا صرف 5 فیصد عالمی حصہ حاصل کرے تو 20 بلین ڈالر تک برآمدات ممکن ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو حلال معیشت سے جڑ کر برآمدات، جی ڈی پی اور قومی برانڈنگ میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہوگا۔