پاکستان میں غربت میں کمی کا طویل سفر رک گیا، عالمی بینک کی رپورٹ

  • ورلڈ بینک کی رپورٹ "Reclaiming Momentum Towards Prosperity"(خوشحالی کی طرف پیش رفت کی بحالی) کے مطابق وہ معاشی ماڈل جس نے ابتدائی کامیابیاں دی تھیں، اب اپنی حدوں کو پہنچ چکا ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں دہائیوں پر محیط غربت میں کمی کا سفر 2020 کے بعد رک گیا اور کچھ حد تک پلٹ بھی گیا ہے۔ عالمی بینک کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ-19، مہنگائی، سیلاب اور معاشی دباؤ جیسے مسلسل جھٹکوں نے ملک کے کھپت پر مبنی ترقیاتی ماڈل کی حدود کو بے نقاب کر دیا ہے۔ عالمی بینک نے پائیدار اور عوام پر مبنی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمزور گھرانوں کی حفاظت اور غربت میں کمی کی رفتار کو دوبارہ بحال کرنا ناگزیر ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت میں کمی کا پُرامید راستہ اب رک گیا ہے اور اس کے نتیجے میں برسوں کی محنت سے حاصل کردہ کامیابیاں واپس ہوگئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2001 میں 64.3 فیصد رہنے والی غربت 2018 تک 21.9 فیصد تک ڈرامائی طور پر کم ہوئی۔ اس دوران 2015 تک غربت کی شرح سالانہ اوسطاً 3 فیصد پوائنٹس کی رفتار سے کم ہوئی اور بعد ازاں یہ شرح سالانہ ایک فیصد پوائنٹ سے بھی کم رہ گئی۔ حالیہ پیچیدہ بحرانوں نے غربت کی شرح دوبارہ بڑھا دی ہے۔ اس دوران 2023/24 میں یہ تقریباً 25.3 فیصد رہی، جو گزشتہ برسوں کی محنت سے حاصل کردہ کمی کے بعد ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2001 میں 64.3 فیصد غربت کو 2018 تک 21.9 فیصد تک کم کیا گیا، جو 2015 تک سالانہ اوسطاً 3 فیصد پوائنٹس کی رفتار سے ہوئی اور بعد ازاں یہ شرح سالانہ ایک فیصد پوائنٹ سے بھی کم رہ گئی لیکن حالیہ پیچیدہ بحرانوں نے غربت کی شرح کو دوبارہ بڑھا دیا اور 2023/24 میں یہ تقریباً 25.3 فیصد رہی۔

عالمی بینک کے مطابق وہ اقتصادی ماڈل جس نے ابتدائی کامیابیاں دی تھیں، اپنی حدوں تک پہنچ چکا ہے اور 2018 میں 14 فیصد آبادی ایسے خطرے میں تھی کہ معمولی جھٹکوں کی صورت میں دوبارہ غربت کا شکار ہو سکتی تھی۔

مزید برآں کووڈ-19،معاشی عدم استحکام، تباہ کن سیلاب اور ریکارڈ بلند افراطِ زر نے انتطامی کمزوریوں کو مزید بے نقاب کیا ہے، جس سے بہت سے افراد کم پیداواری سرگرمیوں میں محدود ہیں اور موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے سے قاصر ہیں۔

عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان بولرما امگابازار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی محنت سے حاصل کردہ غربت میں کمی کے فوائد کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ اصلاحات کو تیز کیا جائے جو خواتین اور نوجوانوں سمیت دیگر کےلیے ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرے ۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں غربت میں کمی بنیادی طور پر غیر زرعی مزدور آمدنی میں اضافے کی بدولت ہوئی، کیونکہ زیادہ تر گھرانے زرعی کام سے ہٹ کر کم معیاری خدمات کی ملازمتوں کی طرف گئے۔ تاہم سست اور غیر مساوی ساختی تبدیلی نے تنوع، روزگار کی تخلیق اور جامع ترقی میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ نتیجتاً زیادہ تر شعبوں میں کم پیداواری صلاحیت نے آمدنی میں اضافے کو محدود کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 85 فیصد سے زیادہ ملازمتیں غیر رسمی ہیں اور خواتین و نوجوان بڑی حد تک لیبر فورس سے باہر ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان میں انسانی سرمائے کے خسارے کو واضح کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 40 فیصد بچے جسمانی یا ذہنی نشوونما کے معیار سے پیچھے ہیں، ایک چوتھائی پرائمری اسکول کے عمر کے بچے اسکول سے باہر ہیں اور جو بچے اسکول جاتے ہیں ان میں سے 75 فیصد اختتام پر سادہ کہانیاں پڑھنے اور سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔

عوامی خدمات کے شعبے میں سنگین کمی سامنے آئی ہے۔ 2018 تک صرف آدھے گھرانوں کو محفوظ پینے کا پانی دستیاب تھا، جبکہ 31 فیصد گھرانے اب بھی بنیادی صفائی کی سہولیات سے محروم تھے۔

عوامی خدمات کے شعبے میں بھی بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔ 2018 میں صرف نصف گھرانوں کے پاس محفوظ پینے کے پانی کی سہولت تھی جبکہ 31 فیصد گھرانے صفائی کی سہولت سے محروم تھے۔

رپورٹ میں سینئر اقتصادی ماہر کرسٹینا ویزر نے کہا کہ غربت میں کمی خطرے میں ہے کیونکہ بنیادی ڈھانچے اور نظام میں کمزوریاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نچلے 40 فیصد لوگوں کے لیے معیاری خدمات، بہتر روزگار کے مواقع اور گھرانوں کو ہنگامی حالات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے ،تاکہ غربت کا چکر توڑا جا سکے اور پائیدار ترقی ممکن ہو۔

کرسٹینا ویزر نے کہا غربت میں کمی کی پیش رفت ساختی کمزوریوں کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ اصلاحات جو معیاری خدمات تک رسائی بڑھائیں، گھرانوں کو جھٹکوں سے محفوظ رکھیں اور بہتر ملازمتیں پیدا کریں ،خاص طور پر نچلے 40 فیصد کے لیے غربت کے چکروں کو توڑنے اور پائیدار، جامع ترقی کے لیے ضروری ہیں۔

عالمی بینک نے اس بات پر زور دیا کہ جرأت مندانہ پالیسی اصلاحات اب انتہائی ضروری ہیں ،تاکہ ساختی عدم توازن دور کیا جا سکے، جھٹکوں کے دوران غربت میں واپسی روکی جا سکے اور دور دراز علاقوں میں ترقی کے مستقل چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بی آئی ایس پی ، بیت المال، نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام اور غربت کے خاتمے کے فنڈ نے غریب گھرانوں کو مدد فراہم کی ہے، تاہم یہ حفاظتی اقدامات غربت کی بنیادی وجوہات حل کرنے والی اصلاحات کا متبادل نہیں بن سکتے۔

رپورٹ میں تین اہم اقدامات کی سفارش کی گئی ہے

اسٹریٹجک سرمایہ کاری: لوگوں کی صلاحیتوں میں اضافہ ، بنیادی عوامی خدمات میں بہتری ، نئے روزگار کے مواقع پیدا ، پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا جائے ۔

لچک پیدا کرنا: بی آئی ایس پی جیسے سماجی تحفظ کے پروگرامز کو زیادہ مؤثر بنانا اور نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری کو جامع بنا کر مستقبل میں مشکلات یا بحران کے وقت کمزور خاندانوں کی بہتر حفاظت کرنا شامل ہے۔

مالیاتی اصلاحات اور اہداف کے ساتھ سرمایہ کاری: میونسپل فنانس کو بہتر ، فضول اور غیر مؤثر سبسڈی ختم ، سب سے غریب لوگوں کے لیے ترجیحی سرمایہ کاری کی جائے اور بروقت ڈیٹا سسٹمز میں سرمایہ کاری کی جائے ، تاکہ وسائل کی تقسیم اور فیصلے شفاف اور مؤثر ہوں۔