سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے نوٹیفائی کیا ہے کہ وہ حصص جن کے ساتھ ووٹنگ کے حقوق منسلک ہوں گے، انہیں منافع حاصل کرنے کا حق بھی ہوگا۔

ایس ای سی پی نے پیر کے روز کمپنیز (فردر ایشو آف شیئرز) ریگولیشنز 2020 (ریگولیشنز) میں مجوزہ ترامیم پر رائے لینے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا۔

ان ترامیم کا مقصد لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے مختلف حقوق و مراعات رکھنے والے حصص کے مزید اجرا کو منظم بنانا ہے تاکہ اقلیتی شیئر ہولڈرز کے حقوق کا تحفظ ہو، اور مضبوط کارپوریٹ گورننس، شفافیت اور قیمت کے تعین کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔

ڈرافٹ ترامیم کے مطابق، ووٹنگ کے حقوق رکھنے والے حصص کو منافع حاصل کرنے کا حق ہوگا۔ اس سے معاشی فوائد کا توازن یقینی ہوگا، عام حصص کی اہمیت برقرار رہے گی اور ووٹنگ و منافع کے حقوق کو ہم آہنگ کرکے مفادات کے تصادم کو کم کیا جا سکے گا۔

ایس آر او 1811(I)/2025 کے تحت، کوئی بھی کمپنی ایسے حصص جاری نہیں کر سکے گی جنہیں ووٹنگ کا حق حاصل ہو مگر منافع کا حق نہ دیا گیا ہو۔

غیر منصفانہ کنٹرول کے ارتکاز سے بچنے اور منصفانہ گورننس کو فروغ دینے کے لیے تجویز کیا گیا ہے کہ کمپنی کے جاری کردہ تمام حصص کی مجموعی ووٹنگ پاور میں عام حصص (ایک شیئر، ایک ووٹ کے اصول کے تحت) کا حصہ کم از کم 75 فیصد ہونا چاہیے۔

ترمیم شدہ قواعد کے تحت یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ مختلف حقوق رکھنے والے حصص کو زیادہ سے زیادہ 5 ووٹنگ حقوق فی شیئر دیے جا سکتے ہیں، اور ایسے تمام عام حصص کو بطور لسٹڈ سکیورٹی جاری کرنا لازمی ہوگا۔

یہ ڈرافٹ ترامیم ایک جامع مشاورت کے بعد سامنے لائی گئی ہیں، جس میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج ، سنٹرل ڈپازٹری کمپنی ، نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ ، لسٹڈ کمپنیاں، کنسلٹنٹس، پیشہ ورانہ تنظیمیں، لا فرمز اور مالی ماہرین شامل تھے۔ ان اسٹیک ہولڈرز نے ابتدائی مشاورتی پیپر اور بعد ازاں بالمشافہ و آن لائن اجلاسوں میں قیمتی تجاویز پیش کیں۔

اس فیڈ بیک کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایس ای سی پی نے اب ڈرافٹ ترامیم شائع کی ہیں تاکہ ان پر حتمی رائے لی جا سکے۔

ان ترامیم پر تجاویز 2 اکتوبر 2025 تک capitalissuefeedback@secp.gov.pk پر بھیجی جا سکتی ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025