فرانس اور سعودی عرب پیر کو نیویارک میں ایک اہم اجلاس منعقد کر رہے ہیں جس میں درجنوں عالمی رہنماؤں کو دو ریاستی حل کی حمایت کے لیے یکجا کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ کئی ممالک اس موقع پر باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے، ایک ایسا اقدام جو اسرائیل اور امریکا کے سخت ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔

اسرائیل اور امریکا نے اس اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کے اقوام متحدہ کے سفیر ڈینی ڈینون نے اسے سرکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مددگار نہیں بلکہ دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، تل ابیب بطور ردعمل مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو ضم کرنے پر غور کر رہا ہے اور فرانس کے خلاف دوطرفہ اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے بھی ان ممالک کو ممکنہ نتائج سے خبردار کیا ہے جو اسرائیل کے خلاف اقدامات کریں گے، جن میں فرانس بھی شامل ہے۔ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب اسرائیل نے غزہ سٹی پر زمینی کارروائی کا آغاز کیا ہے اور مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے بڑھتے تشدد نے دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس ماہ ایک سات صفحات پر مشتمل اعلامیہ منظور کیا تھا جس میں دو ریاستی حل کی جانب ٹھوس، وقت کے پابند اور ناقابلِ واپسی اقدامات کی وضاحت کی گئی تھی۔ فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا کہ یہ صرف ایک وعدہ نہیں بلکہ ایک روڈ میپ ہے جو جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی امداد کے بغیر رکاوٹ داخلے سے شروع ہوتا ہے۔

فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال سمیت کئی ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پیر کو مزید ممالک باضابطہ طور پر ایسا کرنے والے ہیں۔ تاہم اسرائیل نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس پر اصلاحات کے وعدے پورے کرنے کے حوالے سے اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ذاتی طور پر اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے لیکن ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ فلسطینی وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کھل کر فلسطینی ریاست کی بات کر رہی ہے، اب وقت ہے کہ اسے عملی شکل دی جائے۔