دنیا

ٹرمپ اور شی جن پنگ کا متوقع ٹیلی فونک رابطہ، ٹک ٹاک اور تجارتی تنازعات پر بات چیت ہوگی

  • امریکی حکام کے مطابق، رابطے کا سب سے اہم ایجنڈا ٹک ٹاک ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ جمعہ کو ٹیلی فونک رابطہ کریں گے، جس میں دونوں رہنما ویڈیو ایپ ٹک ٹاک کے مستقبل اور تجارتی تعلقات پر بات چیت کریں گے۔ یہ تین ماہ بعد دونوں صدور کا پہلا براہِ راست رابطہ ہوگا۔

امریکی حکام کے مطابق، رابطے کا سب سے اہم ایجنڈا ٹک ٹاک ہے، جسے امریکی کانگریس نے ہدایت دی تھی کہ اگر جنوری 2025 تک اس کے امریکی اثاثے چینی کمپنی بائیٹ ڈانس سے منتقل نہ کیے گئے تو ایپ کو بند کر دیا جائے۔ تاہم ٹرمپ نے اس قانون پر عمل درآمد مؤخر کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پابندی سے نہ صرف لاکھوں صارفین ناراض ہوں گے بلکہ سیاسی رابطے بھی متاثر ہوں گے۔

رائٹرز کے مطابق، مجوزہ معاہدے کے تحت ٹک ٹاک کے امریکی اثاثے مقامی مالکان کو منتقل ہوں گے، تاہم بائیٹ ڈانس کا الگورتھم استعمال ہوتا رہے گا۔ یہ شق امریکی قانون سازوں کو تشویش میں ڈال رہی ہے جو چین کی جانب سے جاسوسی یا اثرانداز ہونے کے خدشات ظاہر کرتے ہیں۔

تجارتی محاذ پر، دونوں فریقین کے درمیان حالیہ مہینوں میں ٹیرف بڑھا کر سہ رخی معیشت کو دباؤ میں ڈال دیا گیا ہے۔ اپریل میں ٹیرف شرحیں تین گنا تک پہنچ گئیں۔ بعدازاں جزوی معاہدوں کے ذریعے وقتی ٹیرف جنگ کو روکا گیا لیکن سیمی کنڈکٹرز، نایاب دھاتوں اور ہوائی جہازوں کی خریداری جیسے امور بدستور زیرِ بحث ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ چین کے ساتھ اچھے شرائط پر توسیعی معاہدہ ممکن ہے۔ دوسری جانب چین کا مؤقف ہے کہ امریکہ فینٹینل کیمیکلز کے معاملے کو سیاسی رنگ دے رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق، ٹک ٹاک اور تجارتی تنازعات کے تناظر میں یہ رابطہ دونوں ملکوں کے لیے تعلقات میں نرمی کا موقع ہو سکتا ہے، اگرچہ تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین جیسے مسائل اب بھی خطرناک رخ اختیار کر سکتے ہیں۔