پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کے روز کاروبار کے دوران ملا جلا رجحان دیکھا گیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں دن بھر اتار چڑھاؤ جاری رہا اور کاروباری دن کا اختتام تقریباً معمولی اضافے کے ساتھ ہوا۔
مارکیٹ نے مثبت آغاز کیا اور انٹرا ڈے کے دورانِ کے ایس ای 100 انڈیکس بلند ترین سطح 159,337.46 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ تاہم، کاروبار کے آخری گھنٹوں میں فروخت کے دباؤ نے ابتدائی تیزی کو ختم کر دیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 83.90 پوائنٹس یا 0.05 فیصد اضافے کے ساتھ 158,037.37 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ ”گزشتہ روز کے نمایاں اضافے کے بعد آج کا دن محدود دائرے میں کاروبار کا عکاس رہا۔ مارکیٹ میں ایک جانب پرامید سرمایہ کار تھے جو تیزی کے رجحان کے ساتھ چل رہے تھے، جبکہ دوسری جانب محتاط سرمایہ کار منافع حاصل کرنے کے لیے فروخت کر رہے تھے، خاص طور پر فیوچرز کانٹریکٹس کی رول اوور ویک (معاہدہ کی تجدید کا ہفتہ) سے قبل۔“
اہم شعبوں میں بھرپور خریداری دیکھی گئی جن میں کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنریز شامل ہیں۔ ایم سی بی، حبکو، اے آر ایل، پی او ایل، ایم ای بی ایل،ماری اور این بی پی بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کی خبر سے اسٹاک مارکیٹ میں بھرپور خریداری دیکھی گئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای-100 انڈیکس 1,775.65 پوائنٹس یا 1.14 فیصد اضافے سے 157,953.47 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر ایشیائی حصص ایک بڑے مالیاتی ہفتے کا اختتام مثبت انداز میں کرنے جارہے ہیں، جس کی وجہ دنیا بھر میں مزید مالیاتی پالیسی کے اقدامات کی امیدیں ہیں۔ اس دوران نکئی انڈیکس نے ریکارڈ قائم کیا جسے اس توقع نے سہارا دیا کہ بینک آف جاپان دوبارہ شرحِ سود میں اضافہ نہیں کرے گا۔
رواں ہفتے امریکہ، کینیڈا اور ناروے کے مرکزی بینکوں نے شرحِ سود میں کمی کی جبکہ بینک آف انگلینڈ نے شرح کو برقرار رکھا۔ جمعہ کو جاپان کا مرکزی بینک بھی مقامی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنی نرم مالیاتی پالیسی کو برقرار رکھنے کی توقع ہے۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس (جاپان کے علاوہ) جمعہ کو 0.3 فیصد نیچے آیا، تاہم یہ اب بھی ہفتہ وار 0.5 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے اور اپنی چار سالہ بلند ترین سطح کے قریب ہی منڈلا رہا ہے۔
جمعہ وہ دن بھی ہے جب اسٹاک آپشنز، انڈیکس آپشنز اور اسٹاک انڈیکس فیوچرز سب ایک ہی دن میچور ہوتے ہیں، جس کے باعث ٹریڈنگ سرگرمی میں اضافہ اور ممکنہ مارکیٹ اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتا ہے۔
نیسڈیک فیوچرز اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں معمولی سی ہی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان متوقع ٹیلیفونک گفتگو سے قبل ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.3 فیصد کم ہو گیا۔
سرمایہ کاروں کے لیے اس ملاقات سے پہلے غور کرنے کے لیے بہت کچھ ہے، جیسے کہ ٹک ٹاک پر ممکنہ معاہدہ قریب ہے، ہواوے کی جانب سے چِپ سے متعلق اپنے منصوبے سامنے لانا اور بیجنگ کا ٹیک کمپنیوں کو ہدایت دینا کہ وہ Nvidia کی اے آئی چِپس نہ خریدیں۔
دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعے کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مثبت رجحان برقرار رکھے ہوئے ہے اور یہ معمولی بہتری کے ساتھ بند ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 281.46 پر بند ہوا، جو کہ ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔ یہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مسلسل 31ویں بہتری ہے۔
آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم بڑھ کر 2,047 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 1,959 ملین تھا۔ حصص کی مجموعی مالیت بھی بڑھ کر 69.27 ارب روپے ہو گئی، جو پچھلے سیشن میں 56.93 ارب روپے تھی۔
سینرجیکو پی کے 170.30 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار والی کمپنی رہی، اس کے بعد بینک آف پنجاب 167.28 ملین شیئرز اور ورلڈ کال ٹیلی کام 163.00 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔
جمعہ کے روز مجموعی طور پر 486 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 189 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 266 میں کمی جبکہ 31 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔