اگست: کرنٹ اکاؤنٹ میں 245 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ
- یہ خسارہ جولائی 2025 میں 379 ملین ڈالر کے خسارے کے بعد آیا
پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں اگست 2025 میں 245 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔
جمعرات کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ خسارہ جولائی 2025 میں 379 ملین ڈالر (نظرِ ثانی شدہ) کے خسارے کے بعد آیا اور اگست 2024 میں 82 ملین ڈالر کے خسارے سے زیادہ ہے۔
مالی سال 26 کے ابتدائی دو ماہ میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 624 ملین ڈالر کے خسارے پر رہا، جو پچھلے سال اسی مدت کے 430 ملین ڈالر کے خسارے سے زیادہ ہے۔
پاکستان نے مالی سال 25 کو 2.1 بلین ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کے ساتھ ختم کیا تھا، جو پچھلے 14 سالوں میں پہلا تھا، اور جس کی بڑی وجہ کارکنوں کی ترسیلاتِ زر میں 27 فیصد اضافہ تھا، جو 38.3 بلین ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔
تاہم، اگست 2025 کا خسارہ ظاہر کرتا ہے کہ مثبت رجحان برقرار رکھنے کے لیے ترسیلات، برآمدات میں استحکام اور درآمدات پر قابو پانے کی ضرورت ہوگی۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، اگست 2025 میں پاکستان کی اشیا کی برآمدات 2.51 بلین ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات 4.98 بلین ڈالر پر پہنچیں، جس سے تجارتی خسارہ 2.48 بلین ڈالر رہا۔ خدمات کی برآمدات 671 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 1,108 ملین ڈالر رہیں، جس سے خدمات کے شعبے میں 437 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا۔
کارکنوں کی ترسیلات زر اگست 2025 میں 3.14 بلین ڈالر رہیں، جو جولائی کے 3.21 بلین ڈالر سے کم تھیں، لیکن پھر بھی ملک کے بیرونی اکاؤنٹ کا ستون بنی ہوئی ہیں۔
ماہرین اقتصادیات نے کہا کہ اگست کا خسارہ حالیہ کرنٹ اکاؤنٹ کی بہتری کو برقرار رکھنے کے چیلنج کو ظاہر کرتا ہے، جس کے لیے مضبوط ترسیلات زر، برآمدات میں استحکام اور درآمدات پر قابو پانا ضروری ہے۔