امریکا نے اچانک اپنے کچھ سینئر سفارتکاروں کو شام سے متعلق ذمہ داریوں سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکا شام کے کرد اتحادیوں کو صدر احمد الشراع کی حکومت میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنی شام سے متعلق پالیسی میں بڑی تبدیلیاں لانے والا ہے۔
یہ تبدیلی سیریا ریجنل پلیٹ فارم(ایس آر پی ) میں کی گئی ہے جو استنبول میں قائم امریکا کا شام کے لیے عملی مشن تصور کیا جاتا ہے۔ ہٹائے گئے تمام اہلکار شام کے لیے خصوصی امریکی ایلچی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی ٹام بیرک کو رپورٹ کرتے تھے۔ بیرک مئی میں تعینات ہوئے اور وہ خطے میں ایسی پالیسی آگے بڑھا رہے ہیں جس کا مقصد شامی ریاست کو صدر احمد الشراع کی قیادت میں متحد کرنا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق متعدد اہلکاروں کو اچانک نوٹس دیےگئے۔امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ محض تنظیمی تبدیلی کا حصہ ہے اور اس کا براہِ راست تعلق پالیسی اختلافات سے نہیں،تاہم مغربی سفارتکاروں کے مطابق برطرفیوں کی ایک بڑی وجہ ایس ڈی ایف (شامی جمہوری فورسز) اور صدر شراع کے حوالے سے مختلف نقطۂ نظر بھی ہے۔
ٹام بیرک مسلسل ایس ڈی ایف پر زور دے رہے ہیں کہ وہ معاہدے کی توثیق کریں جس کے تحت ان کے زیرِانتظام علاقے ریاستی کنٹرول میں لائے جائیں اور ایس ڈی ایف کو قومی سلامتی ڈھانچے میں شامل کیا جا سکےمگر ایس ڈی ایف قیادت اس دباؤ کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں اور وہ غیر مرکوز نظامِ حکومت کے حق میں ہیں، تاکہ خانہ جنگی کے دوران حاصل کی گئی خودمختاری برقرار رکھی جاسکے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ شام سے متعلق پالیسی پر کام مختلف مقامات سے معمول کے مطابق جاری ہے۔