پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ آئی سی سی کے میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کی معذرت کے بعد ملک کے وقار کا تحفظ ہوا ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پائی کرافٹ نے پاکستانی کپتان اور ٹیم مینیجر سے باضابطہ معافی مانگی اور اعتراف کیا کہ یہ واقعہ ”پیش نہیں آنا چاہیے تھا“۔

پی سی بی نے 14 ستمبر کو بھارت کے خلاف میچ میں مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے آئی سی سی سے باضابطہ درخواست بھی دے دی ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ ”کرکٹ اور سیاست ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں، کھیل کو ان سب معاملات سے بالا ہونا چاہیے۔“ انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے سابق چیئرمین نجم سیٹھی اور رمیز راجہ سے مشاورت کی، جبکہ وزیراعظم اور اعلیٰ حکام نے بھی بورڈ کے مؤقف کی حمایت کی۔

نجم سیٹھی نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کھیل میں سیاست کو دخل نہیں دینا چاہیے۔“ رمیز راجہ نے اس پیش رفت کو ”پاکستان کی جیت“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”جذبات کو جو ٹھیس پہنچی، اب ٹیم کو اس کا جواب اپنی کارکردگی سے دینا ہوگا۔ کرکٹ کو کرکٹ ہی رہنا چاہیے، نہ کہ سیاسی ایجنڈے کا میدان۔“

۔

رمیز راجہ نے ریفری اینڈی پائی کرافٹ پر بھارت کے لیے ”متعین ریفری“ ہونے کا الزام بھی عائد کیا، یہ بتاتے ہوئے کہ وہ بھارت کے تقریباً 90 میچز میں آفیشیئٹ ( کسی کھیل یا تقریب میں سرکاری طور پر ذمہ داری سنبھالنا یا انتظامی کردار ادا کرنا“، جیسے ریفری یا امپائر کا کام ) کر چکے ہیں۔

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب پاکستان نے الزام عائد کیا کہ پائیکرافٹ نے بھارت کے خلاف ٹاس کے موقع پر کھلاڑی آغا سلمان کو روایتی مصافحہ کرنے سے روک دیا، جس پر قومی ٹیم نے احتجاج کیا اور ریفری کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔

بعد ازاں پائی کرافٹ نے اس واقعے کو ”غلط فہمی“ قرار دیتے ہوئے وضاحت پیش کی۔

۔

کرکٹ بورڈ نے پائی کرافٹ کی معذرت کا لمحہ قید کرتی ہوئی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔