بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی سالگرہ پر گرمجوشی سے مبارکباد دی اور روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر سراہا، ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تجارتی مذاکرات جاری ہیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا کہروس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کی حمایت پر آپ کا شکریہ! انہوں نے مودی سے اپنی شاندار ٹیلیفونک گفتگو کو یادگار قرار دیا اور بھارتی رہنما کو قابلِ تعریف کام کرنے پر سراہا۔
مودی نے بھی ایکس پر اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کی نیک خواہشات پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہیں اور یوکرین تنازع کے پرامن حل کی ٹرمپ کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہیں جب گزشتہ ماہ ٹرمپ نے بھارتی برآمدات پر ٹیرف 25 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا، اس اقدام کو نئی دہلی کی روسی تیل کی درآمدات سے جوڑا گیا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ بھارت کی جانب سے سستا روسی تیل خریدنا ماسکو کی جنگی مشینری کو مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔
اگرچہ گزشتہ ہفتے دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے نسبتاً مصالحت آمیز بیانات دیے اور تجارتی مذاکرات کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا، لیکن تاحال کسی معاہدے تک پہنچنے میں مشکلات حائل ہیں۔ منگل کو نئی دہلی میں بھارتی اور امریکی تجارتی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے جن میں امریکی نمائندہ خصوصی برائے جنوبی و وسطی ایشیا برینڈن لنچ بھی شریک تھے۔ بھارتی وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق مذاکرات مثبت اور آگے بڑھنے والے تھے اور فریقین نے جلد ایک باہمی مفاد پر مبنی تجارتی معاہدہ طے کرنے کی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اصل پیش رفت اسی وقت ممکن ہے جب واشنگٹن روسی تیل سے جڑی اضافی ڈیوٹی واپس لے، بصورتِ دیگر سیاسی اور معاشی سطح پر کوئی بڑا بریک تھرو ممکن نہیں۔