اسرائیل نے منگل کو غزہ سٹی میں اپنی طویل عرصے سے منتظر زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کا مقصد حماس کے ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا غزہ جل رہا ہے، اسرائیلی فوج آہنی ہاتھوں سے دہشت گرد انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے لڑ رہی ہے۔
فوجی حکام کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے شہر میں داخل ہو کر کارروائی شروع کر دی ہے،اس دوران فضائی اور زمینی بمباری میں شدت آگئی جبکہ بحری جہاز بھی حملوں میں شریک ہوئے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق ابتدائی حملوں میں کم از کم 24 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر غزہ سٹی کے رہائشی تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے عدالتی سماعت کے آغاز پر کہا کہ غزہ میں بڑی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ غزہ سٹی حماس کا آخری مضبوط گڑھ ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر ناقدین نے اسرائیل پر جبری بے دخلی کا الزام لگایا ہے ،کیونکہ شہر کے تقریباً 10 لاکھ فلسطینی کھنڈرات میں واپس آ گئے تھے اور اب انہیں دوبارہ جنوب کی جانب بھیجا جا رہا ہے،جہاں بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق 3 لاکھ 20 ہزار افراد شہر چھوڑ چکے ہیں،جبکہ ساڑھے 6 لاکھ اب بھی موجود ہیں۔