وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز دوحہ میں ہونے والے ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے موقع پر سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔ یہ اجلاس 9 ستمبر کو اسرائیل کے قطر پر حملے کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر بھی شریک تھے۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں اسرائیلی جارحیت کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔

انہوں نے نازک عالمی حالات میں مسلم دنیا کو متحد کرنے کے لیے سعودی ولی عہد کی قیادت کو سراہا اور یقین دلایا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (جہاں پاکستان اس وقت غیر مستقل رکن ہے) اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سمیت ہر عالمی فورم پر بھرپور سفارتی حمایت فراہم کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دوحہ میں اجلاس کے انعقاد سے اسرائیلی اقدامات کے خلاف مسلم دنیا کا ایک مضبوط اور واضح پیغام گیا ہے، جو خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی قیادت کا پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

جواباً سعودی ولی عہد نے اقوام متحدہ اور او آئی سی میں قطر سے یکجہتی کے لیے پاکستان کی فعال سفارتی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ وہ رواں ہفتے وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے منتظر ہیں، جہاں دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی مشاورت ہوگی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک تمناؤں اور دلی عقیدت کا پیغام بھی پہنچایا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف دوحہ کے اس یک روزہ دورے پر ہیں، جہاں وہ اسرائیل کے غیر معمولی اور قطر کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی پر مبنی حملے کے خلاف بلائے گئے ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت اور اعلیٰ حکام شریک ہیں۔