حکومت نئی صنعتی پالیسی کے تحت صنعتی صارفین کے لیے کراس سبسڈیز اور پیک ریٹس ختم کرنے پر غور کررہی ہے،بظاہر یہ ایک درست اور ضروری قدم ہے جس سے توانائی کی فراہمی کے نظام میں شفافیت اور توازن آسکتا ہے، تاہم عملی طور پر اس پر عملدرآمد اتنا آسان نہیں ہوگا۔ یہ تجویز صنعتی پالیسی سازوں کی جانب سے سامنے آئی ہے مگر وزارتِ توانائی اس سے متفق نہیں اور ذمہ داران کا ماننا ہے کہ اس کا نفاذ نہایت مشکل عمل ہوگا۔

کراس سبسڈی کی رقم تقریباً 200 سے 250 ارب روپے کے درمیان ہے۔ اس کے لیے خاطر خواہ مالی گنجائش پیدا کرنا پڑے گی، اگر حکومت یہ گنجائش نکال بھی لے تو امکان ہے کہ آئی ایم ایف اس پر اصرار کرے کہ یہ سبسڈی بی آئی ایس پی (بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام) کے ذریعے فراہم کی جائے، جس سے ایک نیا اور پیچیدہ مسئلہ جنم لے سکتا ہے۔

بی آئی ایس پی جیسے ٹرانسفر پروگرامز میں سبسڈی کا حصول آمدن کی بنیاد پر ممکن ہوتا ہے۔ یوں کئی صارفین جو اس وقت محفوظ شدہ طبقے میں آتے ہیں، ممکن ہے کہ اہل نہ ٹھہریں اور نتیجتاً زیادہ نرخ ادا کرنے پر مجبور ہوں۔

اس نظام کے تحت دراصل تمام صارفین کے لیے ٹیرف بڑھ جائے گا، جب کہ مستحق گھرانوں کو اضافی بلوں کی تلافی بی آئی ایس پی کے ذریعے کی جائے گی۔ اس طرح بہت سے صارفین کے لیے بجلی کے نرخ نمایاں حد تک بڑھ جائیں گے۔ اگرچہ نظام کا ناجائز فائدہ اٹھانے والوں سے سبسڈی واپس لینا اصولی طور پر درست ہے، لیکن اس کا نفاذ سیاسی طور پر نہایت مشکل فیصلہ ہوگا اور عین ممکن ہے کہ حکومت عملی قدم اٹھانے سے پہلے ہی پیچھے ہٹ جائے۔

اس پالیسی کا بنیادی مقصد صنعت کو مسابقتی نرخوں پر توانائی فراہم کرنا ہے تاکہ برآمد کنندگان اور مقامی صنعتکار علاقائی و عالمی منڈی میں مساوی مواقع حاصل کرسکیں، یہ مقصد البتہ کم سیاسی پیچیدگی والے طریقوں سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ایک قابلِ عمل آپشن یہ ہے کہ صنعتی اداروں کو ان کی کیپٹیو جنریشن کے لیے گیس لاگت پر فراہم کی جائے۔ صنعت کار آر ایل این جی کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن انہیں گرڈ پر لانے کے لیے غیرمعمولی لیوی عائد کی گئی ہے جسے ختم کیا جانا چاہیے۔ محض نرخوں میں ردوبدل صنعت کو گرڈ پر منتقل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

قابلِ اعتماد سپلائی کے خدشات اور انفرااسٹرکچر کے بھاری اخراجات اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس صورتحال میں صنعت کار متبادل ذرائع کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ پہلے کئی ادارے فرنس آئل پر منتقل ہوئے کیونکہ ان کے پاس پہلے ہی ٹرائی جن سہولتیں موجود تھیں۔ لیکن بھاری لیویز کے بعد اب وہ دیگر متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ کچھ بایوفیولز درآمد کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً سبھی سولر انرجی اور بیٹری اسٹوریج میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جو دن بدن سستا اور پرکشش ہوتا جارہا ہے۔

اس رجحان کے نتیجے میں قومی گرڈ کے غیر فعال یا ”اسٹرینڈڈ“ ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جس سے چوری اور ناقص کارکردگی کے باعث ہونے والے بھاری اخراجات کی وصولی حکومت کے لیے مزید مشکل ہو جائے گی۔ یوں ڈسکوز کے ذمہ زیادہ تر رات کا بوجھ رہ جائے گا جبکہ دن میں طلب سولر اور بیٹریز پوری کریں گی۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صرف کراس سبسڈیز ختم کرنا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے۔

سیاسی طور پر بھاری قیمت کے باوجود اس اصلاحات کا آغاز ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی حکومت کو یکساں ٹیرف نظام کو ختم کرتے ہوئے کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹس مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے نفاذ کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اس کے لیے پہلا قدم منصفانہ وہیلنگ چارجز مقرر کرنا اور کیپٹیو پلانٹس کے لیے گیس کی قیمتوں کے مسئلے کو حل کرنا ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025