محکمہ موسمیات نے اتوار کو ایک نیا ملک گیر وارننگ الرٹ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شمالی علاقوں میں غیر مستحکم موسم کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ سندھ کے دریائی علاقوں میں سیلابی صورتحال بدستور سنگین ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 612,269 کیوسک، سکھر پر 488,820 کیوسک اور کوٹری پر 274,129 کیوسک ریکارڈ کی گئی، جس سے بالترتیب اونچے، درمیانے اور ہلکے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔

محکمہ نے بتایا کہ 15 ستمبر کی شام یا رات سے 19 ستمبر تک خلیج فارس سے آنے والی مرطوب ہواؤں اور مغربی ہواؤں کے ملاپ سے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بارش، تیز ہوا اور گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشیں ہوں گی۔ اس دوران شانگلہ، سوات، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، مردان اور وزیرستان سمیت کئی اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں۔ کشمیر کے مظفرآباد، وادی نیلم، پونچھ اور دیگر اضلاع میں بھی 16 اور 18 ستمبر کو موسلادھار بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پنجاب اور اسلام آباد میں بھی 16 سے 19 ستمبر کے دوران بارش اور گرج چمک کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ بالائی پنجاب کے اضلاع راولپنڈی، جہلم، اٹک، مری اور گلیات کے علاوہ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد میں 18 اور 19 ستمبر کو شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

سندھ میں زیادہ تر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا تاہم ساحلی علاقوں میں ہلکی بارش یا بوندا باندی متوقع ہے۔ بلوچستان کے بیشتر حصوں میں موسم خشک رہے گا۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آندھی، ژالہ باری اور بجلی گرنے سے کچے مکانات، بجلی کے کھمبے، گاڑیاں اور سولر پینل کو نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خدشہ ہے۔ عوام، مسافروں اور سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور تازہ موسمی صورتحال سے باخبر رہیں۔ متعلقہ اداروں کو بھی الرٹ رہنے اور حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔