حکومت ذخیرہ اندوزی برداشت نہیں کرے گی، وزیر خزانہ
- ذخیرہ اندوزی مصنوعی مہنگائی کا سبب بنتی ہے، جس کو روکنے کیلئے سخت اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ و سینیٹر محمد اورنگزیب نے اتوار کو کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر ایک ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے اور وہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیر خزانہ نے یہ بیان ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں، بشمول مال فتیانہ پل، کے دورے کے دوران دیا تاکہ وہاں جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کا جائزہ لیا جا سکے۔
اپنے دورے کے دوران وزیر خزانہ نے مقامی میڈیا سے بات چیت میں حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کی مدد اور ملک کے مختلف علاقوں میں حالیہ سیلاب کے تباہ کن اثرات کو کم کرنے کے لیے جاری اقدامات کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سیلاب کے بعد کے حالات کو سنبھالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ہم ذخیرہ اندوزی کو برداشت نہیں کریں گے، جو مصنوعی مہنگائی کا سبب بنتی ہے، جس کو روکنے کے لیے سخت انتظامی اور ساختی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے وزیر اعظم کی ہدایت پر پہلے ہی ماحولیاتی اور زرعی نوعیت کے دو قومی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے تاکہ ایسے بحرانوں کی بنیادی وجوہات اور طویل المدتی اثرات سے نمٹا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک 117,000 سیلاب متاثرہ افراد میں سے 116,000 سے زائد افراد کو کامیابی کے ساتھ محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے ہم آہنگ ریسکیو اور ریلیف اقدامات کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔ اس نقطہ نظر سے ہم ایک اچھے مقام پر ہیں۔
وفاقی وزیر نے بحران میں کردار ادا کرنے والے دیگر بڑے مسائل کی جانب بھی توجہ دلائی، جن میں ماحولیاتی تبدیلی، غیر منظم شہری توسیع اور غیر پائیدار زرعی طریقے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے خود ساختہ مسائل پر غور کرنا چاہیے، جیسے ناقص زوننگ قوانین اور رہائشی سوسائٹیوں یا فصلوں کی کاشت کے لیے زمین کے غلط استعمال نے قدرتی آفات سے نقصان کو بڑھا دیا ہے۔یہ سبق سیکھنے کے قابل ہیں۔
انہوں نے پانی کے واپس جانے کے آغاز کے ساتھ ہی نقصان کا جاری جائزہ لینے پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ مقامی، صوبائی اور وفاقی حکام، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور متعلقہ مالیاتی ادارے مل کر آئندہ 10 سے 15 دنوں کے اندر تخمینہ مکمل کریں گے۔
محمد اورنگزیب نے اس بات کی تصدیق کی کہ متاثرہ افراد کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک جامع بحالی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت ماحولیات کی قیادت میں 300 روزہ ماحولیاتی ایکشن پلان کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ صوبائی حکومتوں کے ساتھ نافذ کیا جائے گا، کیونکہ عملدرآمد بنیادی طور پر مقامی سطح پر ہوگا۔