نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے اتوار کو تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی سمیت اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا ہے کہ ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان-امریکہ تعلقات کے مثبت رخ پر اطمینان کا اظہار کیا اور علاقائی و بین الاقوامی حالات پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بات چیت اُس وقت ہوئی ہے جب پاکستان اور بھارت کے مابین مئی میں ہونے والے تنازع کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی کے نتیجے میں سفارتی روابط میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
گفتگو کے دوران دونوں فریقوں نے وسیع شعبوں میں تعاون پر زور دیا، جن میں معاشی تعلقات، انسدادِ دہشت گردی، علاقائی امن و سلامتی، سرمایہ کاری کے مواقع اور پاکستانی برآمدات کے لیے امریکی منڈی تک رسائی شامل ہیں۔
اس سے قبل جولائی میں اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں مارکو روبیو سے ملاقات کی تھی، جہاں مارکو روبیو نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہا۔ اُس ملاقات نے ایک نئے تجارتی معاہدے کی بنیاد رکھی جو ٹیرف میں کمی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور باہمی اقتصادی مفادات کو مستحکم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ایک حالیہ پیش رفت میں پاکستان نے تقریباً 500 ملین امریکی ڈالر کی امریکی سرمایہ کاری حاصل کی ہے، جو اسٹریٹجک منرلز سیکٹر پر مرکوز ہے۔ یہ معاہدہ یونائیٹڈ اسٹیٹس اسٹریٹجک میٹلز کے ساتھ طے پایا ہے، جس میں معدنیات کی کان کنی، ریئر ارتھ عناصر کی پراسیسنگ اور لاجسٹکس شامل ہیں— یہ وہ شعبے ہیں جو دونوں ملکوں کی اقتصادی ترقی اور قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔
فوجی سفارت کاری بھی نمایاں رہی ہے، پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ کے اعلیٰ فوجی قیادت سے ملاقاتوں سمیت کئی اعلیٰ سطح دورے کیے ہیں۔ یہ دورے اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین دفاعی اور اسٹرٹیجک روابط میں گہرے پن کو اجاگر کرتے ہیں۔