میڈرڈ میں اتوار کو امریکی اور چینی حکام کے درمیان اہم تجارتی مذاکرات کرینگے جن میں طویل عرصے سے چلے آنے والے تجارتی تنازعات، چینی ویڈیو ایپ ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کی مجوزہ فروخت کی آخری تاریخ اور واشنگٹن کے مطالبات شامل ہونگے کہ جی-7 اور یورپی اتحادی چین پر ٹیرف عائد کریں تاکہ وہ روسی تیل کی خریداری بند کرے۔

یہ چوتھا موقع ہوگا جب امریکی ٹریژری سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ اور امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر نے یورپی شہروں میں چینی نائب وزیراعظم ہی لیفینگ سے ملاقات کرینگے۔ اس سے قبل جولائی میں اسٹاک ہوم میں دونوں فریقین نے 90 روز کی تجارتی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت بھاری جوابی ٹیرف کم ہوئے اور نایاب معدنیات کی سپلائی دوبارہ شروع ہوئی۔

ذرائع کے مطابق ٹک ٹاک کی مجوزہ فروخت کی تاریخ 17 ستمبر تک بڑھائے جانے کا امکان ہے تاہم کسی بڑے معاہدے کی توقع نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی نومبر 10 تک چینی اشیا پر 55 فیصد ٹیرف برقرار رکھنے کی منظوری دے چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑے فیصلے ممکنہ طور پر اکتوبر میں سیول میں ہونے والے اے پی ای سی اجلاس کے موقع پر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے لیے محفوظ رکھے جائیں گے۔ ان میں ٹک ٹاک کے مستقبل، امریکی سویابین کی چینی خریداری پر پابندیوں میں نرمی اور فینٹانائل سے متعلق ٹیرف میں کمی شامل ہوسکتی ہے۔

امریکہ نے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ چین اور بھارت پر روسی تیل کی خریداری کے سبب اضافی ٹیرف عائد کریں۔ بیسنٹ نے کہا کہ صرف مشترکہ اقدامات ہی روسی آمدن کو محدود کر کے یوکرین میں جنگ ختم کرنے کا دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

اسپین نے اس اجلاس کو اپنی سفارتی اہمیت اجاگر کرنے کا موقع بنایا ہے اور وزیرِخارجہ خوسے مانوئل آلباریس نے وفود کا خیرمقدم کیا۔ میڈرڈ چاہتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر امن مذاکرات کی میزبانی کے لیے خود کو ایک مرکزی مقام کے طور پر پیش کرے۔