امریکا کی قائم مقام سفیر نیٹلی اے بیکر اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے وفد نے دوطرفہ تجارتی و اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور تعاون کے نئے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر اپٹما چیئرمین کامران ارشد، چیئرمین نارتھ اسد شفیع، وائس چیئرمین احمد شفیع، سابق چیئرمین رحیم ناصر، ہارون الہی، احسن شاہد، فیصل جاوید، امین رحمان، سینیئر ایگزیکٹوز اور سیکریٹری جنرل رضا باقر موجود تھے۔ امریکی قونصل جنرل لاہور اسٹیٹسن سینڈرز، سیاسی و اقتصادی سربراہ ولیم کیمبل اور اکنامک اسپیشلسٹ آمنہ انیس بھی وفد کے ہمراہ شریک ہوئے۔

ملاقات میں کپاس اور ٹیکسٹائل شعبوں میں تعاون بڑھانے، سرمایہ کاری اور تجارت کو وسعت دینے، تجارتی خسارہ کم کرنے اور امریکی متقابل محصولات کے تناظر میں تجارتی اجناس میں تنوع پیدا کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے پاس ٹیکسٹائل، ملبوسات اور دیگر شعبوں میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

کامران ارشد نے کہا کہ پاکستان میں کپاس کی مقامی پیداوار مسلسل کمی کا شکار ہے اور اس سال بھی خراب فصل کے باعث بھاری مقدار میں کپاس درآمد کرنا ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا پاکستان کو کپاس کا سب سے بڑا سپلائر ہے جبکہ پاکستان دنیا بھر میں امریکی کپاس کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔

ان کے مطابق امریکی کپاس کی درآمد نے مقامی کمی کو کافی حد تک پورا کیا ہے، تاہم ملکی معیشت کے لیے کپاس اور دیگر خام مال کی دستیابی ناگزیر ہے کیونکہ ٹیکسٹائل پاکستان کی کل برآمدات کا 62 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے بلند نرخ، زیادہ ٹیکسوں اور یارن کی درآمد میں اضافے کے باعث سو سے زائد اسپننگ ملیں بند ہو چکی ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان اور امریکا کے ٹیکسٹائل شعبوں کے درمیان تعاون بڑھانا نہ صرف پاکستانی صنعت کی بحالی کے لیے ضروری ہے بلکہ امریکی صارفین کو بھی سستی اور معیاری ٹیکسٹائل مصنوعات فراہم کرنے کی ضمانت دے گا۔

کامران ارشد نے تجویز پیش کی کہ امریکی کپاس کی درآمد کو GSM-102 اسکیم کے تحت پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات سے منسلک کیا جائے اور اس کے لیے ایک ایسا میکانزم بنایا جائے جس کے تحت پاکستان کی برآمدی وصولیوں کو ای اسکروا اکاؤنٹ کے ذریعے امریکی کپاس کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025