تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس ریٹرن فائلنگ میں بڑی خامی دور، ایف بی آر نے مسئلہ حل کردیا
وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کی مداخلت کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جمعرات کو تنخواہ دار طبقے کی انکم ٹیکس ریٹرن میں موجود ایک بڑے نقص کو درست کرتے ہوئے ریٹرن میں درست رسید ویلیو جمع کرانے کی شرط ختم کر دی۔
اس سلسلے میں ایف بی آر کی پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) ٹیم نے ایف ٹی او ہیڈکوارٹرز میں جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران ایف ٹی او کو بریفنگ دی۔
ٹیکس دہندگان کو آر آئی آئی ایس پورٹل پر یہ پیغام موصول ہو رہا تھا: ”براہ کرم درست رسید ویلیو درج کریں“، جو بار بار کوششوں کے باوجود ٹیکس ماہرین اور وکلاء درست نہیں کر پا رہے تھے۔
اب اس چیک کے خاتمے سے ٹیکس دہندگان کو 30 ستمبر 2025 کی ڈیڈ لائن تک اپنی انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں سہولت حاصل ہو گئی ہے۔
سماعت ایف ٹی او ایڈوائزر/رجسٹرار خالد جاوید اور ایف ٹی او ایڈوائزر (انکم ٹیکس) محمد نصیر بٹ نے کی، جبکہ تنخواہ دار طبقے کی نمائندگی ٹیکس وکلا خرم شہزاد اور وحید شہزاد بٹ نے کی۔
سماعت کے دوران پراَل حکام نے بتایا کہ ریٹرن میں درست رسید ویلیو جمع کرانے کی شرط ایف بی آر کی ہدایت پر شامل کی گئی تھی۔ ایف بی آر کی ہدایات کے بعد یہ چیک ریٹرن سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اب یہ مسئلہ حل کر دیا گیا ہے اور ٹیکس دہندگان ٹیکس ایئر 2025 کے لیے اپنی ریٹرن فائل کر سکتے ہیں۔
پراَل حکام نے مزید بتایا کہ تنخواہ دار افراد کے لیے ایک نہایت سادہ ریٹرن بھی لانچ کر دی گئی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ سادہ ریٹرن یا باقاعدہ ریٹرن میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتا ہے۔
ایف ٹی او کے سینئر ایڈوائزرز نے پراَل کو ہدایت کی کہ سسٹم کو لازمی طور پر آئی رس پورٹل پر ریٹرن فائلنگ کے دوران سامنے آنے والی کسی بھی غلطی کی وجہ واضح کرنی چاہیے تاکہ ٹیکس دہندگان کو اصل رکاوٹ سمجھ آ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ہم ڈیجیٹائزیشن، ٹرانسفارمیشن پلان اور ریفارمز جیسے الفاظ سنتے ہیں، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ ٹیکس دہندگان کو ریٹرن فائل کرنے میں حقیقی سہولت فراہم کی جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025