امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ درجنوں جنوبی کوریائی کارکنوں کو، جو امیگریشن چھاپے کے دوران گرفتار ہوئے تھے، امریکہ میں رہنے اور امریکی کارکنوں کو تربیت دینے کی اجازت دینے پر آمادہ تھے۔ تاہم، سیول حکام کے مطابق صرف ایک کارکن نے اس پیشکش کو قبول کیا ہے۔

یہ پیشکش ایک دن کے لیے خصوصی طیارے کی روانگی مؤخر کرنے کا سبب بنی، جو اب جمعرات کو امریکہ سے روانہ ہو گا۔ گزشتہ ہفتے جارجیا میں 4.3 ارب ڈالر کے ہنڈائی موٹر اور ایل جی انرجی سولوشن کے بیٹری پلانٹ پر چھاپے کے دوران تقریباً 300 جنوبی کوریائی اور 175 دیگر افراد گرفتار کیے گئے تھے۔

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا کہ ٹرمپ کی تجویز پر روانگی کے عمل کو عارضی طور پر روکا گیا۔ ٹرمپ نے حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ گرفتار کارکنوں کو قیام پر آمادہ کریں تاکہ وہ امریکیوں کو تربیت دیتے رہیں۔ تاہم، وزیر خارجہ چو ہیون نے تجویز دی کہ کارکن پہلے وطن واپس جائیں اور اگر چاہیں تو دوبارہ آئیں۔

چو ہیون، جو واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کر رہے تھے، نے مزید کہا کہ کارکنوں کو ایئرپورٹ منتقلی کے دوران ہتھکڑیاں نہیں لگائی جائیں گی۔ عام طور پر امریکہ میں ڈی پورٹ کیے جانے والے تارکینِ وطن کو ہتھکڑی اور بیڑیاں پہنائی جاتی ہیں۔

اس چھاپے نے جنوبی کوریا میں ہلچل مچا دی ہے اور امریکی سرمایہ کاری پر خدشات بڑھا دیے ہیں۔ کوریائی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ماہر کارکنوں کے لیے سخت ویزا پالیسی ان کے منصوبوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔