سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے بیرونِ ملک جانے کی پیشکش کو مسترد کردیا، یہ دعویٰ ان کی بہن علیمہ خان نے کیا ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کو 4 اگست کو بیرونِ ملک جانے کی پیشکش کی گئی تھی ،مگر انہوں نے اسے مسترد کردیا اور کہا کہ میں جیل میں کسی ذاتی مقصد کیلئے نہیں بلکہ ملک، قانون کی حکمرانی اور آئین کیلئے ہوں۔
انہوں نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے قید کے تجربے کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف صرف چار دن قید میں رہنے کے بعد رونے لگے جب کہ اگر مقصد بڑا اور ملک کیلئے ہو تو قید میں رہنا آسان ہوجاتا ہے۔
عمران خان 2023 سے بدعنوانی، زمین کے فراڈ اور سرکاری راز افشا کرنے کے الزامات کے تحت قید میں ہیں اور ان پر 9 مئی کے فسادات سے متعلق الگ مقدمات بھی زیرِسماعت ہیں۔
حکومت نے ان پر اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر 9 مئی 2023 کے احتجاج میں بھڑکانے کا الزام لگایا جس دوران مظاہرین نے فوج اور سرکاری عمارتوں پر حملے کیے جن میں راولپنڈی میں فوج کا ہیڈکوارٹر اور لاہور میں جناح ہاؤس شامل ہیں۔
سابق وزیراعظم کا مؤقف ہے کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہے اور تمام مقدمات سیاسی طور پر ان کی پارٹی کو توڑنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
گزشتہ سال رائٹرز کے حوالے سے ایک اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے بھی کہا تھا کہ عمران خان کی حراست بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
قید میں بیٹھے پی ٹی آئی رہنما کی پارٹی کے امور چلانے کی صلاحیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ صرف 20 منٹ کے مختصر اجلاس میں بھی عمران خان پارٹی کے لیے احکامات جاری کر دیتے ہیں۔
علیمہ خان نے کسی بھی معاہدے کی افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے کئی بار اپنی پوزیشن واضح کی، پھر بھی کچھ لوگ دعویٰ کرتے رہے کہ کوئی معاہدہ ہو رہا ہے۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ انہیں کئی بار موقع دیا گیا کہ اگر ملک چھوڑ دیں تو جیل سے رہا کر دیا جائے، مگر عمران خان نے جواب دیا کہ وہ اپنی ذاتی خاطر نہیں بلکہ ملک کے لیے یہ سب کر رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی شخص دو سال جیل میں بیٹھ کر وہ کام کرے گا جو پہلے دن ہی کیا جا سکتا تھا؟
علیمہ خان نے واضح کیا کہ ان کا بھائی طاقت کے لیے نہیں بلکہ ملک کی خدمت کے لیے قید میں ہیں۔ ہم ان پر فخر کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اپنے بڑے بیٹے کی جیل سے رہائی پر بات کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ شاید دونوں بیٹے رہا ہو جائیں، لیکن صرف ایک ہی رہا ہوا ہے۔
اپنے دونوں بیٹوں کی بےگناہی کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے چھوٹے بیٹے شیرشاہ خان اس وقت بیرونِ ملک تھے جب 9 مئی کے واقعات ہوئے جبکہ شہرزاد ایک کاروباری اور کھلاڑی ہے۔
انہوں نے مزید کہا ko میں، میرے بچے، میری بہنیں، ان کے بچے، پورا خاندان — سب گرفتار ہونے اور قید میں جانے کے لیے تیار ہیں، لیکن ہم کبھی نہیں جھکیں گے۔