بی آر ریسرچ نے پانچ بینکوں کے ٹریژری افسران سے بات کی، اور مجموعی رائے یہ ہے کہ آئندہ دو سہ ماہیوں کے لیے شرح سود اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ان سب کا یہ بھی ماننا ہے کہ اسٹیٹ بینک 15 ستمبر کو آنے والی مانیٹری پالیسی میں موجودہ پالیسی کو برقرار رکھے گا۔
ان سب نے محتاط رویے کی دو وجوہات بیان کی ہیں۔ پہلی وجہ سیلاب کی وجہ سے خوراک کی مہنگائی کا اثر ہے (اور اس کے بغیر بھی کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں)، اور دوسری وجہ یہ کہ اسٹیٹ بینک غیر ملکی زرمبادلہ کی مارکیٹ میں مسلسل ادائیگیوں کے دباؤ کے باوجود روپے کی قدر بڑھانے کا فیصلہ کر رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک بیک وقت روپے کو اوپر لے جا کر شرح سود کم نہیں کرسکتا۔ اسے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ چونکہ وہ روپے کی قدر میں تھوڑا اضافہ کر رہے ہیں، اس لیے شرح سود میں کمی نہیں کی جاسکتی، ورنہ توازن بگڑ جائے گا۔ ایک بینک کے ٹریژری ہیڈ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اور جڑواں شہروں میں موجود حکام کے لیے شرح مبادلہ زیادہ اہم ہے، اس لیے وہ شرح سود میں ممکنہ کمی کی قربانی دے رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مارکیٹ میں سست روی ہے اور ادائیگیوں کا دباؤ برقرار ہے۔ شرح سود میں کمی کے امکانات پہلے ہی کم تھے اور اب سیلاب نے اس پوزیشن کو مزید مضبوط کردیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آئندہ دو سہ ماہیوں میں بالکل بھی کٹوتی نہیں کرے گا، ایک اور بینک کے ٹریژری ہیڈ نے مزید کہا یہ بات صاف لکھی ہوئی ہے کہ اسٹیٹ بینک کمی نہیں کرے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ منی مارکیٹ میں شرحیں ایڈجسٹ ہوسکتی ہیں – خاص طور پر اسلامی انسٹرومنٹس میں جہاں فی الحال شرح 10 فیصد سے کم ہے۔ اسی طرح روایتی مارکیٹ میں ایک سالہ پیپر کی شرح میں بھی تھوڑا اضافہ ہوسکتا ہے۔ او ایم او فنڈنگ تقریباً 11.1 فیصد ہے جبکہ ایک سالہ پیپر 11.0 فیصد پر ہے، اگر شرح سود میں کمی کا امکان نہیں ہے تو ثانوی مارکیٹ کی شرحیں اوپر جائیں گی۔
ایک ٹریژری افسر نے پُر اعتماد لہجے میں کہا کہ ایم پی سی کسی بھی کٹوتی سے گریز کرے گا اور مستقبل میں کسی کٹوتی کے اشارے بھی نہیں دیگا ۔ ڈالر 281 پر ٹریڈ ہو رہا ہے اور ادائیگیوں کا دباؤ برقرار ہے۔ کوئی غیر معمولی دباؤ نہیں، لیکن واضح طور پر مارکیٹ دباؤ میں ہے۔
تاہم توقعات بڑھ رہی ہیں کہ اسٹیٹ بینک روپے کی قدر میں مزید اضافہ جاری رکھ سکتا ہے۔ ایک بینک کے حساب کے مطابق موجودہ آر ای ای آر تقریباً 102 ہے اور چونکہ عالمی مارکیٹ میں ڈالر دباؤ میں ہے، تو 105 تک پہنچنے کے لیے ابھی کافی راستہ باقی ہے۔ لہٰذا، روپے کی قدر میں تھوڑا اضافہ جاری رہ سکتا ہے۔
ایکسپورٹرز یہ حقیقت ناپسندیدگی کے ساتھ قبول کر رہے ہیں اور اب مزید کرنسی کی قدر بڑھنے کے خدشے کے پیشِ نظر فارورڈ بُکنگ شروع کر دی ہے۔ ریمیٹنس کی کہانی بھی گزشتہ ماہ جیسی ہی ہے – ایک بڑے بینک کے سینئر ایگزیکٹو کا اندازہ ہے کہ اگست میں ریمیٹنسز کا حجم 3.1 سے 3.2 بلین ڈالر پر ہی رہے گا۔ برآمدات جمود کا شکار ہیں، جبکہ بڑھتا ہوا درآمدی دباؤ تشویش کا باعث ہے۔
اسٹیٹ بینک نے ریمیٹنسز پر مراعات کو روک رکھا ہے۔ سبسڈی کے باوجود، پچھلے دو سہ ماہیوں میں بینکوں کو ریمیٹنس کے کاروبار میں نقصان ہوا۔ یو بی ایل کے سی ای او نے حال ہی میں ایک اینالسٹ بریفنگ میں بتایا کہ بینک کو پچھلی سہ ماہی میں 3 سے 4 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اس سے قبل، بینک الفلاح کے سی ای او نے کہا تھا کہ بینک کو 2025 کی پہلی ششماہی میں 9 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
مراعات کی عدم موجودگی مزید ریمیٹنس بڑھانے میں رکاوٹ ہے۔ کچھ بینکرز کے مطابق، حکومت اور اسٹیٹ بینک اس وقت تک بغیر سبسڈی فارمولے کو جاری رکھ سکتے ہیں جب تک کہ مارکیٹ میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔ اگر غیر ملکی زرمبادلہ کی مارکیٹ میں دباؤ بڑھتا ہے تو اسٹیٹ بینک فوری طور پر سبسڈیز متعارف کرا سکتا ہے تاکہ بینکوں کو مزید ترسیلات لانے کے لیے راغب کیا جائے۔
معاشی استحکام کو ترقی کی رفتار میں ڈھلنے سے پہلے کچھ فاصلہ طے کرنا ہوگا، اور اس کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اگر اسٹیٹ بینک مالی سال 26 میں 17 ارب ڈالر سے زائد کے ہدف تک پہنچنا چاہتا ہے جبکہ کرنسی کو مستحکم کر رہا ہے، تو اسے مانیٹری پالیسی پر اضافی احتیاط برتنی ہوگی۔