پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے درمیان 4.2 ارب ڈالر کے معاہدے، وزیراعظم کی سرمایہ کاری میں رکاوٹیں دور کرنے کی یقین دہانی
- شہباز شریف کا سی پیک 2.0 کے آغاز کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز بیجنگ میں منعقدہ پاک چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے عمل میں حائل تمام سرکاری رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔ اس موقع پر پاکستان اور چین کی کاروباری کمپنیوں کے درمیان مختلف شعبوں میں 4.2 ارب ڈالر مالیت کی 21 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔
وزیراعظم نے پاک چین اقتصادی تعاون کے لیے اپنے وژن کا اعلان کرتے ہوئے کانفرنس کے دوران ’سی پیک 2.0‘ کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کیا۔
اپنے کلیدی خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے اس فورم کو پاکستان اور چین کے درمیان ”آہنی بھائی چارے“ کا مظہر قرار دیا۔
بیوروکریٹک تاخیر کے خدشات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ”ہم ایک سیکنڈ کی تاخیر بھی برداشت نہیں کریں گے۔ میں نے حال ہی میں ایک چینی سرمایہ کار کو 24 گھنٹوں میں سہولت فراہم کروائی — یہی ہمارا عزم ہے۔“
انہوں نے چینی وفد کو یقین دلایا کہ پاکستان سرمایہ کاروں کی سہولت کاری کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، اور چینی سرمایہ کاروں کو ”شراکت دار“ کے طور پر دیکھا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ”چینی شہریوں کی حفاظت ہمارے لیے سب سے اہم ہے۔“
وزیراعظم نے کانفرنس کو پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی روابط کی مضبوطی کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ اُن اعلیٰ ترین کاروباری کانفرنسز میں سے ایک ہے جن میں میں نے اس عظیم ملک کے دورے کے دوران شرکت کی ہے۔ پاکستان اور چین کا رشتہ بے مثال ہے، ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہرا، شہد سے میٹھا اور فولاد سے زیادہ مضبوط۔“
وزیراعظم نے 2015 میں صدر شی جن پنگ کے تاریخی دورہ پاکستان کے دوران ہونے والے سی پیک معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے پہلے مرحلے نے پاکستان کے توانائی اور انفرااسٹرکچر کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں۔
انہوں نے کہا کہ ”ایک وقت تھا جب ملک میں روزانہ 20 گھنٹے تک بجلی کی بندش ہوتی تھی۔ آج ہم صدر شی کی وژنری قیادت کی بدولت توانائی میں خود کفیل ہو چکے ہیں، یہی وہ موڑ تھا جس نے سب کچھ بدلا۔“
وزیراعظم نے ‘سی پیک 2.0’ کے آغاز کا اعلان کیا، جس میں سرمایہ کاری کا محور کاروبار بہ مقابلہ کاروبار (بی ٹو بی) تعاون ہو گا، خاص طور پر زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت (آے آئی)، معدنیات اور صنعتی منتقلی جیسے شعبوں میں۔
انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ”ہمارے زرعی شعبے سے 60 فیصد آبادی وابستہ ہے۔ چین نے اس میدان میں زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں، اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ شراکت داری کریں تاکہ ہم زرعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کریں اور برآمدات میں اضافہ کریں۔“
وزیراعظم شہباز شریف نے سرمایہ کاری کے فروغ میں خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ زونز سرمایہ کاروں کو ہنرمند سستی لیبر، مشترکہ منصوبہ سازی اور معیاری برآمدی مصنوعات کی تیاری جیسے مسابقتی فوائد فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنے دورہ چین کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ”میں نے 1982 میں جب چین کا پہلا دورہ کیا تھا تو اس وقت بھی کہا تھا کہ چین ناکامی نہیں، بلکہ کامیابی کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔“
وزیراعظم نے کہا کہ ”آج چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور ایک عالمی فوجی طاقت بن چکا ہے، جس نے 70 کروڑ سے زائد افراد کو غربت سے نکالا۔ یہی ماڈل میں پاکستان میں اپنانا اور دہرانا چاہتا ہوں۔“
انہوں نے کہا کہ ”ہم جانتے ہیں کہ یہ راستہ آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ چین کے تعاون اور ہمارے عزم سے ہم پاکستان کو ایک مضبوط اور متحرک معیشت میں بدلیں گے۔ آیئے آج کے دن کو اس سفر کی شروعات بنائیں۔“