محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) نے جمعرات کو پیش گوئی کی ہے کہ کراچی، لاہور اور ملک کے دیگر حصوں میں اس ہفتے کے اختتام سے شروع ہونے والا بارشوں کا سلسلہ تین سے چار دن تک جاری رہ سکتا ہے۔
محکمہ کے مطابق ”فی الوقت ایک کم دباؤ کا سسٹم بھارتی ریاست مدھیہ پردیش پر موجود ہے، جو مغرب اور شمال مغرب کی جانب حرکت کرتا ہوا 6 ستمبر کو راجستھان اور سندھ سے ملحقہ علاقوں تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس سسٹم کے باعث 6 ستمبر سے سندھ اور مشرقی پنجاب میں مون سون ہواؤں کے مضبوط سلسلے داخل ہوں گے۔“
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ان موسمی حالات کے زیر اثر سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر بارشوں کی توقع ہے۔
6 ستمبر کی شب سے 9 ستمبر تک، وقفے وقفے سے شدید گرج چمک اور کہیں کہیں تیز سے انتہائی تیز بارشیں متوقع ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں تھرپارکر، میرپورخاص، سانگھڑ، شہید بینظیر آباد، ٹنڈو الٰہ یار، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، کراچی، ٹھٹھہ، بدین، دادو، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، شکارپور اور گھوٹکی شامل ہیں۔
محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) کے مطابق، 6 ستمبر کی شب سے 8 ستمبر تک لاہور، قصور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر، وہاڑی، خانیوال، ملتان، لودھراں، رحیم یار خان، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان میں بارش، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ محدود مقامات پر تیز بارشیں متوقع ہیں۔
اسی عرصے کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گوجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد اور وزیرآباد میں بھی کہیں کہیں شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
مزید برآں، 7 سے 9 ستمبر کے دوران بلوچستان کے بارکھان، موسیٰ خیل، لورالائی، سبی، ژوب، نصیرآباد، بولان، ڈیرہ بگٹی، کوہلو، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، پسنی، اورماڑہ اور گوادر میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش اور کچھ مقامات پر تیز بارش کا امکان ہے، وقفے وقفے سے۔
کشمیر میں 6 ستمبر کی شام سے 8 ستمبر تک بارشوں اور گرج چمک کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
خیبر پختونخوا کے علاقوں دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بونیر، ملاکنڈ، باجوڑ، مہمند، صوابی، پشاور، مردان، کوہاٹ اور کرم میں 7 سے 9 ستمبر کے دوران بارش، آندھی اور گرج چمک کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ کراچی، میرپور خاص، شہید بینظیر آباد، تھرپارکر، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، ٹھٹھہ، بدین، سجاول اور حیدرآباد کے نشیبی علاقوں میں 7 سے 9 ستمبر کے دوران موسلا دھار بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔
پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں مزید بارشیں صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔
ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی علاقوں اور بلوچستان کے مشرقی و جنوبی اضلاع میں ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور عوام کو بروقت آگاہ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بالائی خیبرپختونخوا، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں متوقع لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکوں کی بندش کا خطرہ ہے، جو عوامی آمد و رفت میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ تیز بارش، آندھی اور بجلی گرنے کے واقعات کے دوران کمزور تعمیرات جیسے کچے مکانات کی چھتیں یا دیواریں، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز، گاڑیاں اور سولر پینلز وغیرہ نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے عوام، سیاحوں اور مسافروں کو کمزور اور حساس علاقوں میں غیر ضروری آمد و رفت سے گریز کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے، اور موسمی صورتحال سے متعلق تازہ ترین اطلاعات پر نظر رکھنے کی تلقین کی ہے۔
تمام متعلقہ اداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہائی الرٹ رہیں اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کریں۔