کپاس کی آمد میں معمولی اضافہ، شدید موسم نے پیداوار پر خدشات بڑھا دیے
- موسلا دھار بارشوں، گرمی کی شدید لہر اور سیلابوں نے، پانی کی کمی کے ساتھ مل کر، اس اہم نقد آور فصل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
پاکستان میں کپاس کی ابتدائی آمد میں بہتری آئی ہے جیسا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی جاری کردہ پندرہ روزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے، تاہم شدید گرمی کی لہروں، سیلاب اور پانی کی قلت کے باعث مجموعی پیداوار میں کمی کے خدشات برقرار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو آنے والے کپاس کے سیزن کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق 31 اگست 2025 تک ملک بھر میں کپاس کی کُل آمد 13 لاکھ گانٹھوں تک پہنچ گئی جو کہ گزشتہ سال اسی تاریخ تک 12 لاکھ گانٹھیں تھیں۔ یہ تقریباً 8.95 فیصد کے قومی اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان کے ہیڈ آف ٹیکنالوجی ٹرانسفر ڈپارٹمنٹ، ساجد محمود نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی اضافہ حوصلہ افزا ہے، مگر یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ مجموعی پیداوار بھی اس سیزن میں زیادہ رہے گی کیونکہ موسم کے بدلتے رجحانات اور سیلابی نقصان فصل کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔
صوبائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ پنجاب میں 4,65,570 گانٹھیں ریکارڈ ہوئیں جو گزشتہ سال سے صرف 2.81 فیصد زیادہ ہیں۔ سندھ کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی جہاں آمد 8,70,062 گانٹھوں تک پہنچی جو کہ 12.54 فیصد اضافہ ہے، جبکہ بلوچستان نے سب سے زیادہ اضافہ دکھایا، 56.32 فیصد کے ساتھ، جہاں 47,600 گانٹھیں ریکارڈ کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں، مگر اصل نتائج آئندہ ہفتوں میں موسم کی صورتحال اور فصل کے اگلے مراحل پر منحصر ہوں گے۔
فصل کو درپیش چیلنجز اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شدید موسم جیسے موسلا دھار بارشیں، گرمی کی شدید لہریں اور سیلاب، پانی کی کمی کے ساتھ، اس اہم نقد آور فصل پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔
کاٹن کرل لیف وائرس اور گلابی سنڈی کے حملوں نے بھی نقصان پہنچایا ہے جبکہ کھادوں کا کم استعمال – خاص طور پر فاسفورس، سلفیٹ آف پوٹاش (ایس او پی)، یوریا اور نائٹروجنی کھاد – نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ پھل بننے کی ابتدائی صورتحال امید افزا نظر آئی تھی مگر جون اور جولائی کی گرمی کی لہروں نے، پانی کی کمی کے ساتھ مل کر، پھل گرنے اور پودوں کی نشوونما رکنے کا باعث بنیں۔
سیلاب نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق پنجاب میں کپاس کی پیداوار میں 35 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔
اب تک 2,100 سے زائد دیہاتوں میں فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، جس سے کھربوں روپے کے زرعی نقصانات ہوئے ہیں۔ پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، بہاولپور اور راجن پور میں ہزاروں ایکڑ کپاس پانی میں ڈوب گئی ہے۔
جنوبی پنجاب قومی کپاس کی پیداوار میں مرکزی کردار رکھتا ہے، اس لیے یہ نقصانات خاص طور پر اہمیت کے حامل ہیں۔
جہاں تک سندھ کی صورتحال کا تعلق ہے، یہ بھی تشویشناک ہے کیونکہ پیداوار اور معیار دونوں متاثر ہوئے ہیں۔ پانی کی قلت کے باعث اس سال صرف 65 فیصد کاشت کا ہدف پورا ہوسکا، جس نے پیداوار کی مقدار اور معیار دونوں پر اثر ڈالا۔
امریکی محکمہ زراعت کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ساجد محمود نے بتایا کہ ملک بھر میں کپاس کے زیرِ کاشت رقبے میں 7.5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس میں سب سے زیادہ کمی سندھ میں ریکارڈ کی گئی۔ نتیجتاً مجموعی پیداوار کے تخمینے گھٹ کر 48 لاکھ گانٹھوں تک آگئے ہیں جو کہ گزشتہ سال سے تقریباً 4 فیصد کم ہیں۔
یوں اگرچہ پی سی جی اے رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ابتدائی آمد اور ذخائر کی صورتحال پچھلے سال کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور کیڑوں کے حملے یہ واضح کرتے ہیں کہ 25-2024 سیزن کی مجموعی پیداوار میں کمی کا امکان ہے، جس کے براہِ راست اثرات قومی معیشت اور ٹیکسٹائل سیکٹر پر مرتب ہوں گے۔
جننگ فیکٹریاں اور ذخائر کی صورتحال
جننگ فیکٹریوں کے حوالے سے ساجد محمود نے بتایا کہ اس وقت 299 فیکٹریاں فعال ہیں، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 272 تھی۔
پنجاب میں 130 فیکٹریاں فعال ہیں، جو کہ 30 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ سندھ میں یہ تعداد 169 ہے، جو کہ 1.74 فیصد کی معمولی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
ذخائر کی سطح نے نمایاں بہتری دکھائی ہے، جو اس وقت 2,00,700 گانٹھوں تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ صرف 53,564 گانٹھیں تھیں۔ یہ 274.69 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ تاہم اس سال ٹیکسٹائل سیکٹر کو کی جانے والی ترسیلات 11,34,932 گانٹھیں رہیں، جو گزشتہ سال کی 11,71,982 گانٹھوں کے مقابلے میں تقریباً 3.16 فیصد کمی ظاہر کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شعبے کی آئندہ کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ کسان اور متعلقہ ادارے کس حد تک بہتر تعاون کرتے ہیں، ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہیں اور فصل کے بقیہ مراحل کو زیادہ مؤثر طریقے سے سنبھالتے ہیں تاکہ کپاس کی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ کیا جا سکے۔
پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) کے نائب صدر اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر یوسف ظفر نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پی سی جی اے کے پہلے کاٹن ہارویسٹ کے اعداد و شمار نے ایک مخلوط تصویر پیش کی ہے۔
ابتدائی سیزن کے دوران پیداواری صلاحیت گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ پیداوار 8.95 فیصد زیادہ ہے، پنجاب میں 2.81 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سندھ اور بلوچستان میں بالترتیب 12.50 فیصد اور 56.2 فیصد اضافہ ہوا۔
پاکستان نے اس سال 41 لاکھ ایکڑ سے 13.35 لاکھ گانٹھیں حاصل کیں۔ گزشتہ سال اسی تاریخ پر پھٹی (سیڈ) کی آمد 45 لاکھ ایکڑ سے 12.25 لاکھ گانٹھیں تھی۔
اس مایوس کن صورتحال کے باوجود کچھ مثبت پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ پنجاب میں ابتدائی (مارچ/اپریل) کپاس کے سیزن کے دوران بہت بڑے رقبے پر کپاس کاشت کی گئی، جس کے نتیجے میں پہلی چنائی کی پیداوار فی ایکڑ 20 من پھٹی رہی۔
تاہم اب سندھ میں داخل ہونے والے طوفانی سیلاب ان فوائد کو بدلنے کا امکان رکھتے ہیں۔ متوقع پیداوار تقریباً 43.5 لاکھ گانٹھیں ہوگی، جو پاکستان کی تاریخ کی سب سے کم سطح ہے۔
کیا کیا جا سکتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تجربات سے سیکھ کر پاکستان اگلے کپاس کے سیزن کے لیے بہتر منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی سی سی سی اور پی اے آر سی کے انضمام کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنا ضروری ہے، جو کابینہ ڈویژن کے فیصلے کے مطابق 30 جون 2025 تک مکمل ہونا تھا۔
اسی طرح، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق میں 9 جولائی 2025 کو پی سی سی سی اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے درمیان دستخط ہونے والے معاہدے کے تحت ٹیکسٹائل ملز نے ابھی تک کپاس سیس کے بقایاجات کی پہلی قسط بھی ادا نہیں کی۔
یہ بات نوٹ کی گئی کہ انضمام کے عمل اور کپاس سیس کے بقایاجات کی ادائیگی میں تاخیر کپاس کی تحقیقاتی سرگرمیوں اور وفاقی سطح پر پیداوار بڑھانے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالے گی۔