متحدہ عرب امارات نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی الحاق ابوظہبی کے لیے ایک ریڈ لائن ہوگی، جو ابراہام معاہدوں کی روح کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ یہ وہ معاہدے ہیں جن کے تحت 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے۔
یو اے ای کی جانب سے یہ بیان غزہ جنگ 2023 کے بعد اسرائیل پر سب سے سخت تنقید قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت جنگ کا آغاز اس وقت ہوا جب حماس نے سرحد پار حملہ کیا۔ ٹرمپ ابراہام معاہدوں کو مزید توسیع دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات اور جنگی حکمت عملی پر عالمی تنقید کے باعث سعودی عرب سمیت دیگر ممالک اس عمل میں شامل نہیں ہوئے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ ایک متنازعہ بستی کی تعمیر شروع کی جائے گی جو مغربی کنارے کو مشرقی یروشلم سے کاٹ دے گی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو ختم کردے گی۔ انہوں نے مغربی کنارے کے الحاق کی بھی حمایت کی۔
یو اے ای کی وزیر خارجہ کے نمائندہ برائے سیاسی امور لانا نسیبہ نے کہا کہ الحاق ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، یہ نہ صرف ابراہام معاہدوں کے وژن کو نقصان پہنچائے گا بلکہ علاقائی انضمام کی کوششوں کو بھی ختم کردے گا۔ ہم اسرائیل پر زور دیتے ہیں کہ یہ منصوبے معطل کرے۔ امن کے لیے ہمت، ثابت قدمی اور تشدد سے انکار ضروری ہے۔
خلیجی ریاستوں نے بھی اسرائیلی وزیر کے الحاق کے مطالبات کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دے کر مسترد کیا ہے۔