پاکستان کی زرعی برآمدات کے تحفظ اور سینیٹری و فائٹوسینیٹری (ایس پی ایس) قواعد و ضوابط کی سخت پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) نے ناروے جانے والی آم کی تین کھیپیں، جن کا وزن 6.2 میٹرک ٹن تھا، یورپی یونین کے ایس پی ایس ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں پر روک لیں۔
ضبط کی گئی کھیپوں کی مالیت 25,649 امریکی ڈالر تھی اور یہ لازمی یورپی یونین فائٹوسینیٹری تقاضوں کی صریح خلاف ورزی میں روکی گئیں۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ خلاف ورزیوں میں ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کا فقدان، غیر رجسٹرڈ باغات سے آم کی خریداری، کیڑے مار ادویات کے باقیات کا تجزیہ نہ ہونا، اور غلط ایچ ایس کوڈ کے اندراج شامل تھے۔
اہلکار نے بتایا کہ اس معاملے میں ملوث برآمد کنندگان — میسرز پیک پنجاب انٹرنیشنل، میسرز سجاد اینڈ کمپنی اور میسرز کامران انٹرپرائزز — پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور انہیں مخصوص مدت تک برآمدات سے روک دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر سال تقریباً 1.8 ملین میٹرک ٹن آم پیدا کرتا ہے جن کی تقریباً 20 اقسام ہیں۔ مجموعی پیداوار میں سے 70 فیصد پنجاب، 29 فیصد سندھ اور ایک فیصد خیبرپختونخوا میں پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان آم کی برآمد متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکہ، افغانستان اور ایران سمیت کئی بین الاقوامی منڈیوں کو کرتا ہے۔ اس سال آم کی برآمدات کا ہدف 125,000 میٹرک ٹن رکھا گیا تھا اور اب تک تقریباً 120,000 میٹرک ٹن آم بغیر کسی ملک کی جانب سے مسترد یا اعتراض کے برآمد کیے جا چکے ہیں۔
برآمدات کو مزید فروغ دینے اور ایس پی ایس معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے، ڈی پی پی نے آم، چاول، مکئی اور پھلوں سمیت اہم زرعی شعبوں میں اصلاحات نافذ کی ہیں۔ ان میں روانگی کے مقامات پر عملے کی تعیناتی، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب، بیک اینڈ مانیٹرنگ سسٹمز، معروف پری شپمنٹ انسپیکشن (پی ایس آئی) فرمز کی شمولیت، فائٹوسینیٹری سرٹیفیکیٹس پر گاڑیوں کے نمبروں کی لازمی ٹریسنگ، کھیپوں کے ساتھ تصویری ریکارڈنگ، اور بدعنوانی کے سدباب کے لیے عملے کی وقتاً فوقتاً تبدیلی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ حالیہ خلاف ورزی کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پکڑی گئی۔ اس پر کسٹمز حکام نے غیر مطابقت رکھنے والی کھیپوں کو ضبط کر کے برآمد کنندگان پر جرمانے عائد کیے۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایس پی ایس پروٹوکولز پر عمل درآمد پاکستان کی زرعی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں ساکھ قائم رکھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ضوابط محض رسمی کارروائیاں نہیں بلکہ خوراک کی حفاظت، عوامی صحت اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ان کی خلاف ورزی صرف ایک کھیپ کو نہیں بلکہ پوری برآمدی چین کو خطرے میں ڈال دیتی ہے، خاص طور پر یورپی یونین جیسی حساس منڈی کے لیے۔
رانا تنویر نے کہا کہ اس غیر قانونی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نہ صرف ایک کھیپ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ یورپ کے لیے پاکستان کی پوری برآمدی کھڑکی بند کرنے کا خطرہ پیدا کر دیتے ہیں۔ ملوث عناصر محض قواعد کی خلاف ورزی نہیں کرتے بلکہ قومی مفادات کے خلاف سرگرمی دکھاتے ہیں۔ ان کے لیے سخت ترین سزائیں اور زیرو ٹالرنس اپنائی جائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025