کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ،100 انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 52 ہزار سے زائد پوائنٹس پر بند

  • سیمنٹ سیکٹر شاندار آف ٹیک نمبرز کی بدولت توجہ کا مرکز بنا رہا
شائع September 3, 2025 اپ ڈیٹ September 3, 2025 08:20pm

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس)میں بدھ کو زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا، مثبت معاشی اشاریوں اور سرمایہ کاروں کے پُراعتماد رویے نے مارکیٹ کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بارایک لاکھ 52 ہزارپوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔

مارکیٹ میں دن بھر مثبت رجحان غالب رہا،ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100انڈیکس 152,805.30 پوائنٹس پر جاپہنچا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 1,226.39 پوائنٹس یا 0.81 فیصد اضافےسے ملکی تاریخ میں پہلی بار152,201.87 پوائنٹس پربند ہوا۔

جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ یہ ریلی بہتر ہوتی ہوئی میکرو اکنامک اسٹیبلٹی اور مضبوط کارپوریٹ آمدنیوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سائیکلکل سیکٹرز میں خاص طور پر سیمنٹ اسٹاکس بہتر ڈسپیچز اور منافع کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ بینکس نے کم شرح سود کے باوجود مستحکم آمدنی سے انڈیکس کو سہارا دیا ہے، جبکہ آٹو اسٹاکس بھی بہتر سیلز پر نمایاں ہیں۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے کہا کہ اس مثبت رجحان کی بنیاد معیشت میں استحکام ہے، جسے پاکستان کے جاری آئی ایم ایف پروگرام نے تقویت دی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرح سود میں بڑی کٹوتیوں نے روایتی سرمایہ کاری ذرائع سے منافع کم کیا ہے، جس سے سرمایہ کار ایکوئٹیز کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، مقامی اداروں کی جانب سے بھاری سرمایہ کاری نے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی فراہم کی اور ریلی کو برقرار رکھا۔

منگل کو بھی اسٹاک ایکسچینج نے اپنی تاریخی ریلی جاری رکھی تھی اور انڈیکس 150,975.48 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جو 1,004 پوائنٹس یا 0.67 فیصد اضافہ تھا۔

بین الاقوامی سطح پر بدھ کے روز ایشیا میں لانگ ٹرم بانڈز کی عالمی گراوٹ جاری رہی، جبکہ سونے کی قیمت نئی بلندی پر پہنچ گئی کیونکہ حکومتی قرض اور معاشی نمو کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے۔

30 سالہ جاپانی گورنمنٹ بانڈ (جے جی بی) کی ییلڈ 3.255 فیصد کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ جاپان کا نکی انڈیکس مندی کا شکار رہا، جب کہ امریکہ میں مینوفیکچرنگ کے مزید سکڑاؤ کے اعداد و شمار آنے کے بعد وال اسٹریٹ میں گراوٹ دیکھی گئی۔

یورپ میں سروسز کے ڈیٹا پر توجہ مرکوز ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ مختلف ممالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا کس طرح مقابلہ کر رہے ہیں۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود میں کمی کے اشارے کے لیے جمعے کے روز امریکہ کے لیبر ڈیٹا پر نظر رہے گی۔

ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ان کی حکومت ٹیرف کے حوالے سے سپریم کورٹ سے جلد فیصلہ طلب کرے گی، جنہیں اپیل کورٹ نے پچھلے ہفتے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ تاہم عدالت نے اکتوبر 14 تک ٹیرف برقرار رکھنے کی اجازت دی۔

ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی کا سب سے بڑا انڈیکس 0.1 فیصد بڑھا، جبکہ جاپان کا نکی 0.5 فیصد گر گیا۔ آسٹریلیا کا ایس اینڈ پی، اے ایس ایکس 200 انڈیکس دوسری سہ ماہی کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار کے بعد 0.9 فیصد نیچے آیا۔

ادھر، پاکستانی روپیہ بدھ کے روز انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.01 فیصد بڑھا اور 281.71 پر بند ہوا۔ یہ مسلسل 19ویں روز ہے کہ روپے نے ڈالر کے مقابلے میں اضافہ درج کیا ہے۔

تمام شیئرز انڈیکس کا حجم 1,043.23 ملین ریکارڈ ہوا جو گزشتہ روز کے 1,081.07 ملین سے کم ہے۔ تاہم، لین دین کی مالیت بڑھ کر 51.31 ارب روپے ہو گئی جو منگل کے 44.42 ارب روپے سے زیادہ ہے۔

پیس (پاکستان) لمیٹڈ 89.29 ملین شیئرز کے ساتھ حجم میں سب سے آگے رہا، اس کے بعد فوجی فوڈز لمیٹڈ 73.36 ملین شیئرز اور بینک آف پنجاب 51.57 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔

گینرز میں ہوئسٹ پاکستان لمیٹڈ 210.03 روپے بڑھ کر 3,999.38 روپے پر بند ہوا، جبکہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ-بی 158.30 روپے بڑھ کر 26,815.80 روپے پر جا پہنچا۔ دوسری طرف، یونی لیور پاکستان فوڈز لمیٹڈ 281.29 روپے کمی کے ساتھ 32,703.51 روپے پر آ گیا اور رافحان مائز پراڈکٹس کمپنی لمیٹڈ 68.89 روپے کمی کے ساتھ 9,605.11 روپے پر بند ہوا۔

بدھ کو مجموعی طور پر 477 کمپنیوں کے حصص کی لین دین ہوئی، جن میں سے 242 کے شیئرز میں اضافہ، 204 میں کمی اور 31 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔