یورپی یونین نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتِ حال کے پیشِ نظر 11 لاکھ امریکی ڈالر (10 لاکھ 50 ہزار یورو) کی انسانی ہمدردی پر مبنی ہنگامی امداد فراہم کرے گی، جس میں اب تک سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ہزاروں بے گھر ہوگئے ہیں۔

پاکستان میں یورپی یونین کے وفد کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ امدادی فنڈز متاثرہ اور پسماندہ طبقات کے لیے طبی سہولتوں، صاف پانی، نکاسی آب اور نقد امداد جیسے شعبوں میں فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

۔

یورپی یونین نے پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ہمارے دل کی گہرائیوں سے تعزیت ان خاندانوں کے ساتھ ہے جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے اور ان تمام افراد کے ساتھ جو اس آفت سے متاثر ہوئے۔“

یورپی امداد کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور اقوام متحدہ بھی متاثرہ افراد کے لیے بالترتیب 30 لاکھ ڈالر اور 6 لاکھ ڈالر کی امداد کا وعدہ کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے رابطہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں رہائش، طبی سہولتوں، نقد معاونت، صاف پانی، حفظانِ صحت کا سامان، تعلیم اور تحفظ خصوصاً خواتین و بچیوں کے لیے، فوری طور پر درکار ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ”پاکستانی حکام اقوام متحدہ اور مقامی شراکت داروں کی مدد سے امدادی سرگرمیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔“

دریں اثناء پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے) کے مطابق صوبے بھر میں 24 لاکھ سے زائد افراد اور 6 لاکھ سے زیادہ مویشی بے گھر ہو چکے ہیں، جن کے لیے 390 امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا ہے کہ اب تک کم از کم 41 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ ریسکیو ٹیمیں صوبے کی تاریخ کی ”سب سے بڑی امدادی کارروائی“ میں مصروف ہیں۔

ماہرینِ ماحولیات اور حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں بار بار آنے والے سیلاب موسمیاتی تغیرات اور عالمی حدت کے باعث رونما ہو رہے ہیں، جن کے اثرات مزید شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔