بھارت نے امریکی مصنوعات پر تمام درآمدی ٹیرف ختم کرنے کی پیشکش کی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
- "اب بہت دیر ہو چکی ہے، بھارت کو یہ کام برسوں پہلے کر لینا چاہیے تھا،" امریکی صدر کا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے امریکی مصنوعات پر عائد ٹیرف کو مکمل طور پر ختم کرنے، یعنی صفر فیصد، تک لانے کی پیشکش کی ہے، اس وقت جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی چین اور روس کے رہنماؤں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے علامتی مظاہرے کر رہے ہیں، باوجود اس کے کہ واشنگٹن کی جانب سے تجارتی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹرمپ نے امریکا بھارت تعلقات کو ”یکطرفہ“ قرار دیتے ہوئے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ ”اب بھارت نے ٹیرف کو مکمل طور پر ختم کرنے کی پیشکش کی ہے، لیکن اب دیر ہو چکی ہے۔ انہیں یہ برسوں پہلے کرنا چاہیے تھا۔“
واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے نے ٹرمپ کے ان ریمارکس پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر مجموعی طور پر 50 فیصد تک کی درآمدی ڈیوٹی نافذ کی جا چکی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی چین میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے موجود تھے۔ اس اجلاس میں بیس سے زائد غیر مغربی ممالک کے رہنما شریک تھے۔
یہ چین کی حمایت یافتہ تنظیم ہے، جسے ٹرمپ کی عالمی تجارتی پالیسیوں میں محصولات کے جارحانہ نفاذ کے بعد نئی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔
اجلاس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے ایک نئے عالمی اقتصادی و سیکیورٹی نظام کا خاکہ پیش کیا، جو ”عالمی جنوب“ ( گلوبل ساؤتھ) کو ترجیح دیتا ہے، یہ تصور براہِ راست امریکہ کے اثر و رسوخ کو چیلنج کرتا ہے۔
اگرچہ امریکا اور بھارت کے تعلقات حالیہ برسوں میں خاصے مضبوط ہوئے ہیں، خاص طور پر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں، جب دونوں ممالک نے چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کیا، لیکن ٹرمپ نے بھارت پر اضافی تجارتی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی اس وقت دی جب بھارت نے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھی، حالانکہ ٹرمپ ماسکو کی جانب سے یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔
چین میں ہونے والے اجلاس کے آغاز سے قبل یکجہتی کا ایک علامتی منظر اُس وقت سامنے آیا جب صدر ولادیمیر پیوٹن اور وزیراعظم مودی نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر خوشگوار موڈ میں صدر شی جن پنگ کی جانب قدم بڑھائے۔ تینوں رہنما کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے تھے، قہقہے لگا رہے تھے، اور مترجمین ان کے گرد موجود تھے۔
بیجنگ نے اس اجلاس کو نئی دہلی کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا موقع بنایا ہے۔ مودی، جو سات سال بعد پہلی بار چین پہنچے، نے صدر شی سے ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا کہ بھارت اور چین حریف نہیں بلکہ ترقیاتی شراکت دار ہیں، اور دو طرفہ تجارت کو بہتر بنانے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔
دریں اثناء امریکی محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس نے چین میں ہونے والی ان ملاقاتوں پر تبصرے کی درخواستوں کا فی الحال کوئی جواب نہیں دیا۔