امریکی اپیل کورٹ نے جمعہ کو فیصلہ دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے زیادہ تر محصولات غیر قانونی ہیں، جس سے ریپبلکن صدر کی ان محصولات کو بین الاقوامی اقتصادی پالیسی کے ایک اہم آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش متاثر ہوئی ہے، تاہم عدالت نے محصولات کو 14 اکتوبر تک برقرار رکھنے کی اجازت دی تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا موقع مل سکے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا جب فیڈرل ریزرو کی خودمختاری کے معاملے پر بھی قانونی جنگ سپریم کورٹ تک جانے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں جس سے ٹرمپ کی مکمل اقتصادی پالیسی پر اس سال ایک غیر معمولی قانونی تصادم کا منظرنامہ تیار ہورہا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت میں محصولات کو امریکی خارجہ پالیسی کا ستون بنایا، جس کے ذریعے سیاسی دباؤ ڈالنے اور تجارتی سودوں پر دوبارہ گفت و شنید کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان محصولات نے تجارتی شراکت داروں سے اقتصادی رعایتیں حاصل کرنے میں انتظامیہ کو فائدہ پہنچایا، لیکن مالیاتی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بھی بڑھا۔

ٹرمپ نے اس فیصلے پر احتجاج کیا اور اسے انتہائی جانب دار عدالت قرار دیا، اور ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ محصولات ختم ہو جائیں تو ملک کے لیے یہ مکمل تباہی ہوگی۔ انہوں نے تاہم امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ کی مدد سے محصولات سے ملک کو فائدہ پہنچے گا۔

واشنگٹن میں فیڈرل سرکٹ کی امریکی اپیل کورٹ نے 7-4 کے فیصلے میں اپریل میں لگائے گئے ٹرمپ کے تبادلہ محصولات اور فروری میں چین، کینیڈا اور میکسیکو کے خلاف عائد الگ محصولات کی قانونی حیثیت پر غور کیا۔

عدالت کے فیصلے کا اثر اسٹیل اور المونیم کی درآمدات پر لگائے گئے ٹرمپ کے دیگر محصولات پر نہیں پڑتا۔