این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ نے بدھ کے روز مصنوعی ذہانت ( اے آئی) چپس پر سرمایہ کاری کے بظاہر سست ہوتے رجحان سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں یہ شعبہ کھربوں ڈالر کی منڈی میں تبدیل ہو جائے گا۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ کمپنی کے امکانات مضبوط ہیں، حالانکہ اس نے رواں سہ ماہی کے لیے آمدنی کی وہ پیش گوئی کی جو تجزیہ کاروں کی توقعات پر تو پوری اترتی ہے لیکن مارکیٹ کے بلند تر اندازوں سے کم ہے۔

ہوانگ نے کہا کہ ایک نیا صنعتی انقلاب شروع ہو چکا ہے، اے آئی کی دوڑ جاری ہے۔ ان کے مطابق دہائی کے اختتام تک 3 سے 4 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری صرف اے آئی انفراسٹرکچر پر ہوگی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بڑے ٹیکنالوجی ادارے اور ڈیٹا سینٹر مالکان اس سرمایہ کاری کو آگے بڑھا رہے ہیں، جبکہ این ویڈیا کی ٹیکنالوجی انہیں زیادہ ڈیٹا کم توانائی میں پراسیس کرنے میں مدد دیتی ہے۔

کمپنی کے مطابق ایک غیر چینی صارف نے حالیہ سہ ماہی میں صرف چین کے لیے بنائے گئے H20 چپس 650 ملین ڈالر میں خریدے۔ ہوانگ نے مزید کہا کہ صرف رواں سال بڑے کلائنٹس کی جانب سے ڈیٹا سینٹرز پر 600 بلین ڈالر خرچ کیے جائیں گے اور اس میں این ویڈیا کا حصہ اربوں میں ہوگا۔

اگرچہ کمپنی نے تیسری سہ ماہی کی فروخت کا تخمینہ 54 بلین ڈالر لگایا ہے جو توقعات سے معمولی زیادہ ہے، لیکن ہوانگ اور این ویڈیا دونوں کو یقین ہے کہ منافع میں کمی نہیں آئے گی، کیونکہ اس کے جدید بلیک ویل اور ہاپر پروسیسرز پہلے ہی 2026 تک بک چکے ہیں۔ سرمایہ کاری ماہرین کے مطابق یہ اشارہ ہے کہ اے آئی بوم ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔