امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک کو مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام تاریخ میں پہلی بار ہے کہ کسی صدر نے فیڈ کے گورنر کو ہٹایا ہے، جو عدالتی چیلنج کی صورت میں صدارتی اختیارات اور فیڈ کی خودمختاری کا بڑا امتحان ثابت ہوسکتا ہے۔

ٹرمپ نے کُک پر الزام لگایا کہ انہوں نے 2021 میں مشی گن اور جارجیا میں الگ الگ رہائشی قرضوں کے لیے کاغذات میں دونوں جائیدادوں کو بنیادی رہائش ظاہر کیا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ فریب دہی اور مجرمانہ طرزعمل ہے جو ان کی بطور مالیاتی نگران اہلیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

کُک، جو 2022 میں صدر جو بائیڈن کی نامزدگی پر گورنر بنی تھیں، نے کہا ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر استعفیٰ دینے کا ارادہ نہیں رکھتیں اور اپنے مالی معاملات پر سوالات کے حوالے سے حقائق سامنے لائیں گی۔

ماہرین کے مطابق کُک کے خلاف الزامات ان کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے کے ہیں، اس لیے یہ اقدام قانونی طور پر متنازع ہے۔ ٹرمپ کا فیصلہ فیڈ پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی مہم کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد امریکی بانڈ مارکیٹ میں ردعمل سامنے آیا اور سرمایہ کاروں نے امکان ظاہر کیا کہ شرح سود میں کمی متوقع ہے مگر افراطِ زر پر قابو پانے کی پالیسی متاثر ہوسکتی ہے۔