پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کے روز کاروبار کے دوران شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں مستقبل کے سودوں کی تجدید (رول اوور) کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع خوری نے مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا۔ نتیجتاً، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 677.75 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی اور یہ 0.45 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 148,815.30 پوائنٹس پر بند ہوا۔

دن کا آغاز مثبت رجحان سے ہوا اور انٹرا ڈے کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس بلند ترین سطح 150,079.75 پوائنٹس تک پہنچا۔ تاہم جلد ہی سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنا شروع کیا جس سے انڈیکس کاروباری دن کی کم ترین سطح 148,757.13 پوائنٹس تک گر گیا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ بند ہونے کے بعد اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مقامی حصص بازار نے مستقبل کے سودوں کی تجدید کے ہفتے کا آغاز غیر یقینی انداز میں کیا، جہاں مختصر مدتی منافع خوری نے مارکیٹ کے رجحانات کو متاثر کیا۔

رپورٹ کے مطابق بی اے ایف ایل، این بی پی)، سیریل اور پی اے بی سی نے انڈیکس میں مجموعی طور پر 92 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ دوسری جانب بی اے ایچ ایل، سسٹمز لمیٹڈ ، میزان بینک، ایچ بی ایل اور لک کے حصص کی قیمتوں میں کمی کے باعث انڈیکس 394 پوائنٹس گر گیا۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ریسرچ ہیڈ سعد حنیف کے مطابق تقریباً 77 ارب روپے مالیت کے مستقبل کے سودے رواں ہفتے تجدید کے مراحل میں داخل ہو رہے ہیں، جس نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رول اوور ویک وہ عرصہ ہوتا ہے جب مستقبل کے مالی سودے (فیوچر کنٹریکٹس) اپنی معیاد پوری کرتے ہیں اور سرمایہ کار انہیں بند کر کے آئندہ مہینے کے لیے نئی پوزیشنز لیتے ہیں، تاکہ اپنی سرمایہ کاری برقرار رکھ سکیں۔

ماہرین کے مطابق مارکیٹ رول اوور ویک کے آغاز پر منافع سمیٹنے کے رجحان کا شکار ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ نے اپنی تیزی برقرار رکھی، جسے منافع بخش اعلانات اور سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی نے سہارا دیا۔ کے ایس ای-100 انڈیکس نے 151,262 پوائنٹس کی انٹرا ڈے بلند ترین سطح چھوئی اور ہفتہ وار بنیاد پر 3,001 پوائنٹس (2 فیصد) اضافے کے ساتھ 149,493 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر بھی پیر کے روز ایشیائی مارکیٹوں میں اضافہ دیکھا گیا، جہاں سرمایہ کاروں نے امریکی شرح سود میں کٹوتی کے دوبارہ آغاز کے امکان پر محتاط خوش آمدید کہا۔ ساتھ ہی یہ توقع بھی ظاہر کی جارہی ہے کہ اس ہفتے اے آءی جائنٹ کمپنی نیوڈیا کے نتائج ٹیکنالوجی سیکٹر کی بلند قدریں درست ثابت کریں گے۔

امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے نرم رویے کے بعد فیوچرز میں ستمبر میں شرح سود میں 0.25 فیصد پوائنٹس کمی کے 84 فیصد امکانات قیمتوں میں شامل کرلیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ سال کے وسط تک مجموعی طور پر 100 بیسس پوائنٹس کی کمی سے شرح سود 3.25-3.5 فیصد تک لانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اس تبدیلی کے بعد ٹریژری بانڈز کی ییلڈ اور ڈالر کم ہوئے ہیں، جس نے کارپوریٹ منافع کے امکانات کو بہتر بنایا، اگرچہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ پالیسی ساز روزگار اور معیشت میں سست روی کے خطرے کو زیادہ دیکھ رہے ہیں۔

مارکیٹ کے اس جوش و خروش کو جمعے کو آنے والے امریکی پرسنل کنزمپشن پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار بھی پرکھیں گے، جن میں توقع ہے کہ بنیادی افراطِ زر 2.9 فیصد تک بڑھ کر 2023 کے اواخر کے بعد سب سے زیادہ سطح پر پہنچے گا۔

افراطِ زر کے کسی بھی اضافی دباؤ سے طویل المدتی ٹریژری بانڈز کی ریکوری کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، خاص طور پر اس ہفتے کے دوران 183 ارب ڈالر کے نئے قرضوں کے اجراء کے پیش نظرایسا ہونے کا امکان ہے۔

فی الحال سرمایہ کار وال اسٹریٹ کے رجحان کی پیروی کر رہے ہیں۔ جاپان کا نکیئی انڈیکس 0.6 فیصد بڑھا، جنوبی کوریا کے اسٹاکس میں 0.7 فیصد اور آسٹریلیا کے انڈیکس میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔

ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک (جاپان کے علاوہ) کا وسیع ترین انڈیکس 1.1 فیصد بڑھا، جسے چینی بلیو چِپس کے مزید 1 فیصد اضافے نے سہارا دیا۔

چینی انڈیکس اس ماہ اب تک تقریباً 9 فیصد بڑھ چکا ہے اور اکتوبر 2023 کی بلند ترین سطحوں کو چھو رہا ہے۔ اگر یہ ریکارڈ ٹوٹ گیا تو یہ جون 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گا۔

دریں اثناء پاکستانی روپیہ کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ انٹربینک مارکیٹ میں پیر کے روز روپیہ کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ہوا، کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 281.87 روپے پر بند ہوا، جو گزشتہ بندش کے مقابلے میں 3 پیسے کا اضافہ ہے۔ یہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مسلسل بارہویں دن بہتری ہے۔

تمام حصص پر مشتمل انڈیکس میں کاروباری حجم 802.01 ملین شیئرز سے کم ہو کر 693.30 ملین شیئرز رہ گیا۔ اسی طرح حصص کی مالیت بھی نمایاں کمی کے ساتھ 40.45 ارب روپے سے گھٹ کر 26.34 ارب روپے پر آ گئی۔

پیر کے روز کوہِ نور اسپننگ 113.89 ملین حصص کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار والی کمپنی رہی، جس کے بعد سیکیور لاجسٹکس گروپ 32.59 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور سوئی سدرن گیس کمپنی 27.05 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔

پیر کے روز مجموعی طور پر 479 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 204 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 246 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت گرگئی جبکہ 29 کمپنیوں کے نرخ مستحکم رہے۔