سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ منصفانہ سماعت اور منصفانہ ٹرائل کا حق اس امر کا متقاضی ہے کہ کسی فرد کے حقوق یا جائز توقعات کو متاثر کرنے والے فیصلے کے ذریعے اسے سزا نہ دی جائے جب تک کہ اسے مؤقف پیش کرنے اور جواب دینے کا موقع فراہم نہ کیا جائے۔ یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایوکیو ٹرسٹ پراپرٹیز کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کے بعد سنایا۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ طاہرہ بیگم سمیت دیگر درخواست گزاروں نے 1974 میں کراچی کے ودھو مل اوڈھرام کوارٹرز میں 16481.35 مربع فٹ رقبہ نیلامی کے ذریعے حاصل کیا اور یامین اینڈ کمپنی کے نام سے کاروبار شروع کیا۔ 99 سالہ لیز 1991 میں ایوکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر کراچی کے ذریعے رجسٹر ہوئی۔ تاہم، ستمبر 2020 میں وزارت مذہبی امور کے سیکرٹری نے لیز کو منسوخ کرتے ہوئے الزامات عائد کیے کہ یہ لیز جعلی اور بوگس ہے۔
درخواست گزاروں نے نوٹس کا جواب دیا مگر اس کے باوجود انہیں بے دخلی کی دھمکیاں دی گئیں۔ قانونی چارہ جوئی کے محدود دائرہ کار کے باعث انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی مگر ڈویژن بینچ نے درخواست مسترد کر دی۔ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لیز کی منسوخی کا حکم ان کی غیر موجودگی میں جاری کیا گیا اور بعدازاں اچانک عدالت میں پیش کر دیا گیا، جبکہ انہیں مؤقف دینے کا پورا موقع نہیں دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ ہائی کورٹ نے محض تکنیکی بنیادوں پر درخواست گزاروں کو انصاف سے محروم کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت منصفانہ ٹرائل بنیادی حق ہے اور فطری انصاف کے تقاضے یہ ہیں کہ کسی بھی شہری کو نقصان دہ فیصلے سے قبل مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ عدالت عظمیٰ نے زور دیا کہ تمام عدالتی، نیم عدالتی اور انتظامی اداروں پر لازم ہے کہ وہ انصاف کو قانون اور آئین کی روح کے مطابق یقینی بنائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025