مسابقتی اپیلیٹ ٹربیونل (سی اے ٹی) نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان کے مطابق 2020 میں ہنڈائی ٹکسن ایس یو وی کی لانچ کے دوران گمراہ کن تشہیر پر ہنڈائی نشاط موٹرز کے خلاف مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

تاہم، ٹربیونل نے سی سی پی کی جانب سے عائد کردہ 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کے جرمانے کو کم کر کے 50 لاکھ روپے کر دیا ہے۔

مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے 11 اگست 2020 کو ہنڈائی نشاط موٹرز کی جانب سے منعقدہ ایک فیس بک لائیو ایونٹ کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا۔ اس تقریب کے دوران کمپنی نے اپنی ایس یو وی ”ٹکسن“ کی دو ماڈلز کے لیے تعارفی قیمتوں کا اعلان کیا: جی ایل ایس/ایف ڈبلیو ڈی ماڈل کی قیمت 48,99,000 روپے اور الٹی میٹ/اے ڈبلیو ڈی ماڈل کی قیمت 53,99,000 روپے مقرر کی گئی۔

تاہم، سی سی پی کی تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ یہ قیمتیں 24 گھنٹوں سے بھی کم مدت کے لیے دستیاب تھیں، اور ”محدود مدت کی پیشکش“ کا انتباہ صارفین کو واضح انداز میں فراہم نہیں کیا گیا۔

بیان کے مطابق کمپنی نے مختصر بکنگ دورانیے کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں 2 لاکھ روپے کا اضافہ کر دیا اور اپنی ویب سائٹ و سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ابتدائی قیمتوں کا تمام ریکارڈ ہٹا دیا۔

کمیشن نے اس طرزِ عمل کو ’بیٹ ایڈورٹائزنگ‘ (یعنی صارفین کو پرکشش قیمتوں سے راغب کر کے بعد میں انہیں تبدیل کرنا) قرار دیا، جو کہ مسابقتی ایکٹ 2010 کے سیکشن 10 کی صریح خلاف ورزی ہے۔

مزید برآں، سی سی پی نے مشاہدہ کیا کہ ہنڈائی دیگر ممالک میں زیادہ شفاف مارکیٹنگ پریکٹسز اپناتی ہے اور پاکستانی صارفین بھی اسی معیار کے مستحق ہیں۔

تحقیقات کی تکمیل کے بعد اپریل 2025 میں سی سی پی نے ہنڈائی نشاط پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا۔ بعد ازاں ہنڈائی نشاط نے اس فیصلے کو مسابقتی اپیلیٹ ٹربیونل میں چیلنج کیا، جس نے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے جرمانے کی رقم کم کر کے 50 لاکھ روپے کر دی ہے۔

ٹربیونل نے قرار دیا کہ گاڑی کی قیمتوں سے متعلق وضاحتی نوٹ ( ڈس کلیمر) کافی واضح نہیں تھا اور کمپنی کی تشہیری مہم نے صارفین کو گمراہ کیا۔

اسی بنیاد پر ٹربیونل نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے فیصلے کو برقرار رکھا، تاہم ہنڈائی نشاط پر عائد مالی جرمانے کو کم کر کے 50 لاکھ روپے کر دیا۔